مئی 14, 2026
عِلمُ اکلام
قرآن کی دعوتِ عقل و تفکر اور عِلمُ الکلام

قرآن کی دعوتِ عقل و تفکر اور عِلمُ الکلام

تمہید

قرآنِ حکیم انسانی عقل کو جمود میں رکھنے کے بجائے اسے بیدار کرنے کی کتاب ہے۔ یہ انسان کو اندھی تقلید سے نکال کر غور و فکر، تدبر اور شعور کی دنیا میں لے جاتا ہے۔ قرآن بار بار سوالات اٹھاتا ہے، نشانیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے، اور انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ کائنات اور اپنی زندگی پر سوچے۔ یہی سوچ اور تعقل ایمان کو مضبوط کرتی ہے اور انسان کو صحیح راہ پر لے جاتی ہے۔

عقل و تفکر کی اہمیت قرآن کی روشنی میں

1. کائنات کی نشانیوں پر غور

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ (آل عمران: 190)
ترجمہ: بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات دن کی گردش میں عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

یہاں قرآن انسان کو دعوت دیتا ہے کہ کائنات کے نظام پر غور کرے۔ عقل والے ہی ان نشانیوں کو دیکھ کر خالق تک پہنچتے ہیں۔

2. قرآن پر تدبر کی ضرورت

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ (النساء: 82)
ترجمہ: کیا یہ لوگ قرآن پر غور و فکر نہیں کرتے؟

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ تدبر اور عقل کے ساتھ سمجھنے کے لیے نازل ہوا ہے۔

3. عقل کا استعمال نہ کرنے والوں کی مذمت

وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا (الأعراف: 179)
ترجمہ: ہم نے بہت سے جن و انس کو جہنم کے لیے پیدا کیا، ان کے دل ہیں مگر وہ ان سے سمجھتے نہیں، آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں، کان ہیں مگر سنتے نہیں۔

یہ آیت عقل اور حواس کے غلط استعمال یا عدم استعمال کو گمراہی کی بنیاد قرار دیتی ہے۔

4. غور و فکر کرنے والے اور نہ کرنے والے برابر نہیں

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (الزمر: 9)
ترجمہ: کہہ دو: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟

یہاں واضح کر دیا گیا ہے کہ عقل اور علم کی قدر و منزلت، جہالت اور غفلت پر فوقیت رکھتی ہے۔

5. تخلیق کے مقصد پر غور

وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا (آل عمران: 191)
ترجمہ: اور وہ زمین و آسمان کی تخلیق میں غور کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اے ہمارے رب! تو نے یہ سب کچھ بے مقصد نہیں بنایا۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ غور و فکر کرنے والا شخص حقیقتِ زندگی اور آخرت کے انجام کو پہچان لیتا ہے۔

قرآن حکیم بار بار انسان کو عقل، تدبر اور تفکر کی دعوت دیتا ہے۔ ایمان صرف تقلید سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ غور و فکر، کائنات کی نشانیوں پر تدبر، اور قرآن کی آیات پر گہری نظر ڈالنے سے راسخ ہوتا ہے۔ جو لوگ عقل کو استعمال کرتے ہیں وہی ہدایت پاتے ہیں، اور جو عقل سے غافل رہتے ہیں، وہ قرآن کی نگاہ میں گمراہ ہیں۔

سورۃ آلِ عمران کی آیات 190-191 نہایت اہم اصول بیان کرتی ہیں کہ انسان کو کائنات کے مشاہدے اور اس پر غور و فکر کے ذریعے حقیقت تک رسائی حاصل کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُوْلِي الألْبَابِ۔ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىَ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ”

ترجمہ: بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات دن کی گردش میں عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔، جول کھڑے بیٹھے اور لیٹے ہوئے (ہر حال میں) اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غوروفکر کرتے ہیں (پھر کہہ اٹھتے ہیں) کہ اللہ تو نے یہ سب بے مقصد پیدا نہیں فرمایا، بس ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے۔

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ:

  1. کائنات کی تخلیق اور دن و رات کے نظام میں نشانیاں ہیں: یہ محض ایک مادی دنیا نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک حکیم و قدیر خالق کی تدبیر کارفرما ہے۔ جو شخص عقل و بصیرت سے ان مظاہر پر غور کرے گا وہ محض ظاہری حسن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کی حقیقت کو بھی پہچانے گا۔
  2. مشاہدہ اور عقل کا تعلق: قرآن یہاں ہمیں یہ اصول سکھاتا ہے کہ جب انسان کا مشاہدہ درست ہو اور وہ تعصب، اندھی تقلید یا ناقص قیاس سے آزاد ہو کر سوچے، تو اس کی عقل لازمی طور پر صحیح نتائج تک پہنچتی ہے۔ مشاہدے کی بنیاد پر کیا گیا یہ تجزیہ انسان کو خدا کی وحدانیت، حکمت اور مقصدِ تخلیق کا شعور بخشتا ہے۔
  3. صحیح نتائج کا حصول: غور و فکر کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ انسان اس نتیجے پر پہنچے کہ کائنات فضول یا بے مقصد نہیں ہے۔ اسی لیے آیات میں غور و فکر کرنے والوں کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں: "ربنا ما خلقت هذا باطلا” یعنی "اے ہمارے رب! تو نے یہ سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔” اس اعتراف سے ایمان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اور عمل صالح کی راہیں کھلتی ہیں۔
  4. ذکر اور فکر کا امتزاج: ان آیات میں عقل کو تنہا نہیں چھوڑا گیا بلکہ ذکرِ الٰہی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محض خشک عقل یا صرف جذباتی عبادت کافی نہیں، بلکہ ایک توازن درکار ہے جہاں عقل حقائق کی جستجو کرے اور دل اللہ کی یاد سے منور رہے۔

آیت "رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا” دراصل یہ تعلیم دیتی ہے کہ کائنات اور اس کے مظاہر کو محض ایک حادثہ یا کھیل نہ سمجھا جائے، بلکہ ان کے پیچھے ایک گہرا مقصد اور حکمت کارفرما ہے۔ یہ جملہ ہمیں اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ:

  1. کائنات بے مقصد نہیں – ہر مظہر، ہر نظام اور ہر تبدیلی دراصل ایک خاص مقصد کے تحت وجود میں آئی ہے۔
  2. انسانی ذمہ داری – انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے مشاہدات اور عقل کو استعمال کرکے ان مقاصد کو دریافت کرے۔ یہ سائنسی تحقیق، فطری قوانین کی کھوج اور کائناتی نظام کے رازوں کی تلاش سب اسی دعوتِ قرآن کا حصہ ہیں۔
  3. ایمان کا تقاضا – جب انسان ان مقاصد کو پہچانتا ہے تو اس پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ یہ سب کچھ ایک حکیم اور قادر ہستی کی تخلیق ہے، جو فضول نہیں بلکہ بامقصد ہے۔
  4. عملی نتیجہ – اس اعتراف سے انسان میں ذمہ داری، عدل، خدمتِ خلق اور اخلاقی بیداری پیدا ہوتی ہے کیونکہ وہ جان لیتا ہے کہ زندگی بھی مقصد سے خالی نہیں۔

یعنی یہ آیت ہمیں کائناتی مظاہر کے اندر چھپے ہوئے مقاصد و حکمتیں تلاش کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے تاکہ انسان محض مشاہدہ پر اکتفا نہ کرے بلکہ غور و فکر کرکے حقیقت اور مقصد تک پہنچے۔

1. کائناتی نظام میں مقصدیت

جب قرآن کہتا ہے: "رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا” تو گویا وہ اعلان کرتا ہے کہ یہ کائنات ایک بامقصد نظم پر کھڑی ہے۔ یہی تصور جدید سائنس کی جستجو کا نقطۂ آغاز ہے۔ سائنس بھی یہ مفروضہ لے کر چلتی ہے کہ فطرت میں قوانین اور نظم موجود ہیں، جنہیں عقل اور تجربے کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر کائنات بے مقصد یا بے ربط ہوتی تو سائنسی تحقیق ممکن ہی نہ ہوتی۔

2. تعقل و تفکر کی ترغیب

قرآن کی بار بار کی دعوت "أفلا یتدبرون” اور "أفلا یعقلون” اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ محض سطحی مشاہدہ کافی نہیں بلکہ گہرے غور و فکر کے بغیر حقیقت تک پہنچنا ممکن نہیں۔ سائنسی طریقہ کار بھی مشاہدہ، سوال، تجزیہ اور نتیجہ خیزی پر مبنی ہے، جو قرآن کی اسی دعوت سے ہم آہنگ ہے۔

3. مقاصد کی دریافت اور سائنسی تحقیق

جب انسان کائنات کو بامقصد سمجھتا ہے تو وہ اس کے رازوں کو دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر:

  • زمین کی محوری گردش اور موسمی تغیرات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ زندگی کے تسلسل کے لیے ایک کامل توازن قائم ہے۔
  • نباتات کا ضابطۂ نمو اور فوٹو سنتھیسز کا نظام بتاتا ہے کہ کائنات میں بقا کے اصول پہلے سے طے شدہ ہیں۔

یہ سب کچھ قرآن کی اس رہنمائی کی طرف اشارہ ہے کہ کائناتی مظاہر کے پیچھے پوشیدہ حکمتوں کو سمجھنا ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔

4. ایمان اور علم کا امتزاج

سائنسی تحقیق جب قرآن کے مقصدی نقطہ نظر سے کی جائے تو وہ محض مادی فوائد تک محدود نہیں رہتی بلکہ انسان کو اس حقیقت تک پہنچاتی ہے کہ خالق نے یہ سب کچھ فضول نہیں بنایا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ علم اور ایمان ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، نہ کہ ایک دوسرے کی نفی۔

علم الکلام کی حقیقت

1. قرآن کی روشنی میں عقل و تفکر کی اہمیت

قرآن کریم انسان کو بار بار عقل و فکر کے استعمال کی دعوت دیتا ہے۔ متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

  • "أَفَلَا تَعْقِلُونَ” (کیا تم عقل نہیں رکھتے؟)
  • "أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ” (کیا یہ قرآن میں تدبر نہیں کرتے؟)
  • "قُلْ انْظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ” (کہہ دو، زمین و آسمان میں کیا ہے دیکھو)

یہ آیات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ عقل اور مشاہدہ ایمان کی تقویت اور حق کی معرفت کا ذریعہ ہیں۔ لہٰذا قرآن کے مزاج کے مطابق عقل ایک لازمی ہتھیار ہے، نہ کہ بیکار یا گمراہ کن قوت۔


2. ائمہ کا علمِ کلام پر تنقید کا پس منظر

امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے زمانے میں علمِ کلام کی بعض شکلیں جنم لے چکی تھیں۔

  • معتزلہ اور دیگر متکلمین نے عقل کو وحی پر فوقیت دینا شروع کر دیا۔
  • بعض فلسفیانہ نظریات محض قیاس اور منطقی موشگافیوں پر مبنی تھے جن سے عوام میں تشکیک پیدا ہوتی۔

امام شافعیؒ کا قول ہے:

"لو علم الناس ما في الكلام من الأهواء لفروا منه كما يفرون من الأسد”
(اگر لوگ جان لیتے کہ علمِ کلام میں کتنی گمراہیاں ہیں تو وہ اس سے ایسے بھاگتے جیسے شیر سے بھاگتے ہیں)

امام احمد بن حنبلؒ نے بھی کہا:

"أصحاب الكلام زنادقة”
(کلام کے بعض اصحاب زندیق ہیں)

یہ اقوال اصل میں عقل کی نہیں بلکہ ان عقل پر مبنی باطل نتائج کی مذمت ہیں جو وحی سے ٹکرا جاتے تھے۔


3. عقل کی مذمت اور غلط فہمی

بدقسمتی سے بعد کے کچھ علما نے ان اقوال کو عقل کی عمومی مذمت سمجھ لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ:

  • عقل و فلسفہ کو ہی مشکوک مان لیا گیا۔
  • کائماتی مظاہر کے بارے میں سوال اور تجزیہ کرنے کی حوصلہ شکنی کی گئی۔
  • وحی کے ساتھ تعقل کی قرآنی دعوت کو ثانوی حیثیت دے دی گئی۔

یہ رویہ حقیقت میں قرآن کے بنیادی پیغام کے خلاف تھا۔ قرآن نے تو انسان کو بار بار عقل کے ذریعے حقیقت کو پرکھنے اور کائنات کے مشاہدے سے اللہ کی عظمت کو جاننے کی دعوت دی ہے۔

4. ائمہ کی اصل مراد: عقل وحی کے تابع

امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کی اصل مراد یہ تھی کہ:

  • عقل اگر وحی کی راہنمائی میں چلے تو وہ روشنی ہے۔
  • لیکن اگر عقل وحی کو پسِ پشت ڈال کر خود کو معیارِ مطلق بنا لے تو وہ گمراہی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عقل کے مخالف تھے، بلکہ وہ عقلِ آزاد (جو وحی کو نظر انداز کرے) کے خلاف تھے۔

لہٰذا، یہ کہنا درست ہے کہ ان ائمہ نے عقل کی مذمت نہیں کی، بلکہ عقل کے غلط استعمال کی مذمت کی۔ عقل بذاتِ خود قرآن کے نزدیک ایمان کی دلیل ہے۔ قرآن کی دعوتِ تعقل اس بات کا ثبوت ہے کہ ایمان اور عقل ایک دوسرے کے معاون ہیں، نہ کہ متضاد۔

علم الکلام اور متشابہات

1. قرآن حکیم اور متشابہات

اللہ تعالیٰ نے سورۃ آلِ عمران (3:7) میں صاف ارشاد فرمایا ہے:

هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ
فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ
وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ

ترجمہ: وہی ہے جس نے آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی، اس میں کچھ آیتیں ایسی ہیں جو بالکل صاف اور محکم ہیں، وہی اصل کتاب ہیں، اور دوسری کچھ متشابہ ہیں۔ پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ انہی متشابہات کے پیچھے لگ جاتے ہیں تاکہ فتنہ پیدا کریں اور اپنی طرف سے ان کی تاویل تلاش کریں، حالانکہ ان کی حقیقی تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ:

  • قرآن میں دو طرح کی آیات ہیں: محکمات (واضح اور قطعی دلائل والی) اور متشابہات (جن کے درست مفہوم کو صرف اللہ جانتا ہے)۔
  • جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہو، وہ متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں تاکہ فتنہ انگیزی کریں اور اپنی مرضی کی تاویلات پیش کریں۔

2. متکلمین کا طرزِ عمل

علم الکلام میں مشغول ہونے والے بعض افراد کا رجحان یہ تھا کہ وہ:

  • صفاتِ الٰہی جیسے: "استواء”، "ید اللہ”، "وجه الله” وغیرہ کی حقیقت میں بحث کرتے۔
  • اللہ کی ذات و صفات کو انسانی معیارات میں پرکھنے کی کوشش کرتے۔
  • متشابہ آیات کے پیچھے پڑ کر ان کی تاویلیں تراشتے اور لمبی فلسفیانہ موشگافیاں کرتے۔

یہ رویہ دراصل قرآن کی ہدایت کے خلاف تھا، جس نے متشابہات کی حقیقت اللہ پر چھوڑنے کا حکم دیا۔


3. سلف صالحین کا طرزِ عمل

ائمہ سلف مثلاً امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور دیگر کا طریقہ یہ تھا کہ:

  • محکمات پر ایمان رکھتے اور انہیں بنیاد بناتے۔
  • متشابہات کو ان کے ظاہری الفاظ پر چھوڑ دیتے اور اس کے معانی اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیتے۔
  • اپنی عقل سے اس میں قیاس و تاویل میں نہیں پڑتے۔

امام مالکؒ سے مشہور قول ہے کہ جب ان سے "الرحمن على العرش استوى” کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا:

"الاستواء معلوم، والكيف مجهول، والإيمان به واجب، والسؤال عنه بدعة”
(استواء کا معنی معلوم ہے، کیفیت نامعلوم ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے، اور اس کے بارے میں سوال بدعت ہے)۔


4. ائمہ کی جانب سے علم کلام کی مذمت کا اصل سبب

چنانچہ ائمہ سلف نے علم الکلام کی مذمت اسی لیے کی کہ:

  • یہ قرآن کے حکم کے خلاف متشابہات میں تاویلات اور بحثوں میں الجھاتا ہے۔
  • اس کا نتیجہ لوگوں کے دلوں میں شبہات اور اختلافات کی صورت میں نکلتا ہے۔
  • یہ ایمان کو مضبوط کرنے کے بجائے شک و تذبذب میں ڈال دیتا ہے۔

ائمہ سلف نے عقل کی مذمت نہیں کی، بلکہ متشابہات میں فلسفیانہ تاویلات کے پیچھے پڑنے والے علم الکلام کی مذمت کی۔ ان کا طرزِ عمل تفویض (معانی اللہ کو سپرد کر دینا) تھا، تاکہ ایمان سلامت رہے اور انسان غیر ضروری مباحث میں نہ الجھے۔

1. علم الکلام کا آغاز

علم الکلام کی ابتدا دراصل اسی سوال سے ہوئی کہ کلام اللہ (قرآن) کی حقیقت کیا ہے؟

  • کیا کلام اللہ حقیقی ہے یا مجازی؟
  • آخر اللہ تعالیٰ کیسے کلام کرتا ہے؟
  • آیا یہ مخلوق ہے یا غیر مخلوق؟
  • کیا اللہ تعالیٰ کے کلام میں آواز اور حروف شامل ہیں یا نہیں؟

متکلمینِ جہمیہ و معتزلہ نے اس طرح کے غیر ضروری سوال اٹھا کر علم الکلام کی بنیاد ڈالی۔ یہی سوال بعد میں بہت سے فلسفیانہ اور عقلی مناظروں کا نقطہ آغاز بن گئے۔ چونکہ اس علم کی بنیاد ہی کلام اللہ پر سوال اٹھانے سے جڑی تھی، اس لیے اسے "علم الکلام” کہا گیا۔


2. مناظرانہ فضا اور مباحثے

علم الکلام صرف علمی جستجو تک محدود نہ رہا بلکہ:

  • یہ بحث و مناظرے کا علم بن گیا۔
  • متکلمین کا مقصد اکثر دوسرے کے دلائل کو توڑنا، اسے لاجواب کرنا اور اپنی برتری ثابت کرنا ہوتا تھا۔
  • اس ماحول میں خلوص نیت، طلبِ ہدایت اور للٰہیت ثانوی حیثیت اختیار کر گئے۔

3. ضد اور انا کا غلبہ

ائمہ سلف کے نزدیک اس علم کا بڑا نقصان یہ تھا کہ:

  • سچائی کی تلاش کے بجائے انا اور ضد کو تقویت ملتی ہے۔
  • متکلمین ایک دوسرے کی آراء کو نیچا دکھانے پر زیادہ زور دیتے تھے۔
  • قرآن کے سادہ اور واضح اصولوں کے بجائے فلسفیانہ موشگافیاں اور پیچیدہ اصطلاحات کا سہارا لیا جاتا تھا۔

امام شافعیؒ نے ایک موقع پر فرمایا:

"اگر کوئی شخص علم الکلام میں مشغول ہو جائے تو میرے نزدیک اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنا بہتر ہے۔”


4. مذمت کی ایک بڑی وجہ

چنانچہ ائمہ سلف نے علم الکلام کی مذمت کی بنیادی وجوہات میں سے ایک یہ بھی بیان کی کہ:

  • یہ علم ہدایتی علم نہیں بلکہ مجادلہ اور مناظرانہ علم بن گیا تھا۔
  • اس نے لوگوں کو قرآن و سنت کی اصل روح سے ہٹا کر فلسفہ اور منطق کی پیچیدگیوں میں الجھا دیا۔
  • نتیجتاً یہ علم زیادہ تر اختلاف، فرقہ بندی اور دلوں کی سختی کا سبب بننے لگا۔

5. خلاصہ

قرآن مجید انسان کو عقل و فکر کے استعمال کی دعوت دیتا ہے اور کائنات کے حقائق پر غور و تدبر کے ذریعے درست نتائج تک پہنچنے کی ترغیب دیتا ہے۔ سورۃ آل عمران کی آیات اس امر کو واضح کرتی ہیں کہ کائناتی مظاہر با مقصد ہیں اور ان پر غور کرنے سے انسان رب کی حکمت اور وحدانیت تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ تاہم آئمہ سلف نے علم الکلام کی مذمت کرتے ہوئے اصل میں عقل کی نفی نہیں کی بلکہ اُن غلط عقلی نتائج کی طرف متوجہ کیا جو متشابہات کی بے جا تاویلات اور لاحاصل مناظروں کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ متشابہات کے معانی اللہ کے سپرد کر دیے جائیں اور اپنی طرف سے رائے قائم نہ کی جائے۔ علم الکلام چونکہ اکثر ضد، انا اور بے روح مناقشوں کا میدان بن گیا تھا، اس لیے سلف نے اسے ناپسند کیا۔ یوں ساری بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ قرآن کی دعوت عقل و تفکر سے ہم آہنگ ہے، لیکن وہ عقل جو خلوص اور حقیقت کی تلاش پر مبنی ہو، نہ کہ فتنہ پروری اور بے مقصد جدل پر۔

علم الکلام اپنی ابتدا میں ایک غیر ضروری جستجو سے شروع ہوا، لیکن وقت کے ساتھ یہ خالص علمی و روحانی تحقیق بننے کی بجائے کے مناظرانہ اور انانیت پر مبنی بحثوں کا علم بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین نے اسے پسند نہیں کیا اور قرآن و سنت کے واضح اور محکم دلائل پر اکتفا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے