مئی 14, 2026
قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کا لازوال کلام ہے جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سر لیا ہے۔قرآن حکیم کی حفاظت ہر پہلو سے کی گئی ہے

قرآن حکیم کا مخصوص رَسمُ الخط

از قلم ساجد محمود انصاری

قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کا لازوال کلام ہے جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سر لیا ہے۔قرآن حکیم کی حفاظت ہر پہلو سے کی گئی ہے۔نہ صرف قرآن کی متواتر قرآت  محفوظ ہیں بلکہ قرآن کے لکھنے کا انداز یعنی رَسم الخط بھی محفوظ ہے۔نزولِ قرآن کے وقت جزیرۃ العرب میں عربی زبان کے تین رَسم الخط (سکرپٹ یا فانٹس )زیادہ معروف تھے،  خطِ صنعانی ، خطِّ حِیری اور خطِّ حجازی۔

حجاز(مکہ و مدینہ) میں حجازی رسم الخطّ کا رواج عام تھا۔ نبی ﷺ نے جو کاتبین وحی مقرر فرمائے تھے وہ قرآن کو حجازی رسم الخطّ میں لکھتے تھے۔نبی ﷺ کی وفات کے بعد جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے اتفاقِ رائے سے قرآن کو ایک مصحف کی شکل میں جمع فرمایا تو اسے حجازی رسم الخط میں لکھنے پر ہی ان کا اتفاق ہوا۔ہر زبان کی طرح عربی زبان کےبھی مختلف لہجے رائج تھے، تاہم قرآن حکیم ام القریٰ مکہ مکرمہ میں بسنے والے قبیلےقریش کے لہجے میں نازل کیا گیا، کیوں کہ یہ  رسول  اکرم ﷺ کا قبیلہ تھا۔ تاہم صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کا تعلق مختلف قبائل سے تھا، اس لیے  ابتدا میں نبی ﷺ نے ان کی سہولت کی خاطر انہیں  سات بڑے قبیلوں کے لہجے میں قرآن پڑھنے کی اجازت عطا فرمادی تھی۔ ان سات قبیلوں کے لہجوں کو حدیث میں سَبعۃ اَحرُف کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔(صحیح البخاری: رقم  3219، صحیح مسلم: رقم 819) البتہ نبی ﷺ نے اپنی دنیاوی زندگی کے آخری رمضان المبارک میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کا دَور کرنے کے بعد امت کو ایک ہی  حرف یا لہجے پر جمع کرنے اور اختلاف سے بچانے کے لیے  قریش کے سوا باقی چھ قبائل کے حروف ترک  فرمادیے تھے اور قریش کے حرف میں قرآن پڑھنا لازم کردیا تھا۔لہٰذا باقی چھے حروف منسوخ تو نہیں ہوئے البتہ شرعی مصلحت کے تحت متروک ہوگئے ہیں۔ ہمارے پاس جو مصحف موجود ہے وہ صرف قبیلہ قریش کے حرف پر لکھا گیا ہے۔(مقدمہ تفسیر الطبری) کیوں کہ   قرآن کو مصحف کی شکل میں جمع کرتے وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اتفاق کیا کہ قرآن کو قریش کے لہجے اور رسم الخط میں لکھا جائے۔ (صحیح البخاری: رقم 3506)

امام ابن تیمیہ الحنبلی ؒ نے امام ابن جریری طبری ؒ کے قول کی توثیق کی ہے اور اسے جمہور علمائے امت کا مسلک قرار دیا ہے۔(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ ؒ)

خلافتِ صدیقی کے زمانے میں قرآن کو مصحف کی شکل میں جمع کرنے کا  مقصد جہاں قرآن کی حفاظت کرنا تھا وہیں قرآن کے ایسےمعیاری نسخے (اسٹینڈرڈ  ورژن ) کی تشکیل تھا جو  کسی بھی اختلاف کی صورت میں امت کی راہنمائی کرسکے۔  مختلف قبائل میں عربی کے بعض الفاظ کے مختلف لہجے رائج تھے، بہت سے لوگوں نے اپنی یاد داشت کے لیے اپنے اپنے لہجے  کے مطابق قرآن لکھ رکھا تھا جو بعد والوں کے لیے فتنے کا باعث بن سکتا تھا۔ اس لیے قرآن کا معیاری نسخہ تشکیل دیا گیا کہ اگر کوئی شخص کسی لفظ کو اپنے انداز میں پڑھنے پر اصرار کرے تو موازنے کے لیے معیاری نسخہ موجود ہو۔اس کے علاوہ ایسا بھی ممکن تھا کہ ایک ہی قبیلے کی قرآت میں پڑھے جانے والے الفاظ کو ایک سے زائد رسم الخط میں لکھا جاسکتا تھا، مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے حجازی رسم الخط کو قرآن کا معیاری رسم الخط قرار دیا اور اسی رسم الخط میں قرآن لکھا گیا۔ برمنگھم لائبریری میں محفوظ قرآن  حکیم کے قدیم ترین نسخے سے اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ اولین قرآن کے نسخے حجازی رسم الخط میں لکھے گئے تھے۔

ہرچند کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے امت کو قرآن میں اختلاف کرنے سے بچانے کے لیے بروقت اقدام کیا اور قرآن کا معیاری نسخہ تشکیل دیا، تاہم یہ نسخہ دارالخلافہ مدینہ منورہ میں محفوظ تھا۔دور دراز کے لوگ اس نسخے سے فائدہ نہ اٹھاسکے، بالخصوص عجمیوں نے چونکہ مختلف اداور میں مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے قرآن سیکھا تھا، اس لیے وہ اصرار کرتے تھے کہ ہم اسی لہجے میں قرآن پڑھیں گے جس لہجے میں ان کے استاد صحابہؓ نے انہیں سکھایا ہے۔اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے خلافتِ صدیقی میں تشکیل دیے گئے معیاری نسخے کی متعدد نقول تیار کروائیں اور  ہر صوبے کے دارالحکومت میں معیاری نسخے کی ایک ایک نقل بجھوا دی اور  اتفاق رائے سے یہ حکم جاری کیا کہ آئندہ تمام نسخے اسی نسخے کے مطابق لکھے جائیں اور اگر کسی کے پاس کوئی  ایسا نسخہ ہے جس میں رسم الخط یا لہجے کا فرق ہے، تو وہ اس نسخے کو امت کے وسیع تر مفاد میں  مٹا دے یا نذرِ آتش کردے تاکہ وہ بعد والوں کے لیے فتنہ کا باعث نہ بنے۔(صحیح البخاری: رقم 4987)

اسی لیے جمہور علما کا اتفاق ہے کہ ایسی قرآت جو قرآن کے اس  معیاری حجازی رسم الخط سے مطابقت نہ رکھتی ہو جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نسخوں میں اختیار کیا گیا تھا، نماز میں اس قرآت کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرنا جائز نہیں۔

یاد رہے کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جو نسخے تیار کروائے تھے ان پر اِعراب (زیر، زبر، پیش، تنوین) وغیرہ جیسی حرکات نہیں لگائی گئی تھیں۔عرب عربی زبان جانتے تھے اور بغیر اِعراب کے قرآن پڑھ لیتے تھے، مگر عجمیوں کے لیے اِعراب کے بغیر قرآن پڑھنا بہت مشکل تھا۔سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اخیر زمانے تک عربی گرامر بھی وجود میں نہیں آئی تھی۔ تب امام علی علیہ السلام نے عجمیوں کےمسائل کا ادراک کیا اور قرآن پر اعراب لگانے اور قرآن کی روشنی میں عربی  گرامر(صرف و نحو) کے اصول و قواعد ترتیب دینے کا ارداہ فرمایا ، مگر آپ کے زمانہ خلافت میں امت مسلمہ انتشار کا شکار تھی، باہم جنگ وجدل کا بازار گرم تھا، امام علی علیہ السلام بحیثیت امیر المؤمنین اسلامی سلطنت میں امن و امان قائم کرنے کے لیے رات دن سرگرم عمل تھے، اس لیے آپ کے پاس اتنی فرصت نہیں تھی کہ وہ بیٹھ کر سارے قرآن پر اِعراب لگائیں، البتہ آپ نے اپنے شاگرد امام  ابوالاسود الدولیؒ کو اِعراب کے اصول و قواعد کے بارے میں مکمل راہنمائی فراہم کی اور اسے عربی گرامر کی تشکیل کا کام سونپا۔ چنانچہ امام علی علیہ السلام عربی گرامر کے اصل بانی ہیں، تاہم عام طور پر انکے شاگرد ابوالاسود ؒکو امام النحوکے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ان کے بعد الخلیل اور سیبویہ نے عربی گرامر میں مزید ترامیم و اضافے کیے۔  (سیر اعلام النبلا جز4، صفحہ 82) 

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ جزیرۃ العرب میں عربی زبان کے تین بڑے رسم الخط رائج تھے ، یعنی خط صنعانی، خط حِیری اور خطِ حِجازی۔مکہ و مدینہ میں خط حجازی رائج تھا۔لہٰذا قرآن کو خط حجازی میں لکھا گیا۔اس کے باوجود ایک ہی رسم الخط میں بھی ایک ہی لفظ کو ایک سے زیادہ انداز میں لکھنے کی گنجائش تھی۔مثال کے طور پر زکٰوۃ کو زکاۃ اور زکات  تینوں طرح لکھا جاسکتا تھا ، مگر صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم نے اسے حجازی رسم الخط کے مطابق  زکوٰۃ لکھا۔ اسی طرح  قرآت کے اعتبار سے تابوۃ اور تابوت دونوں طرح درست ہے مگرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تابوت اختیار کیا۔ قدیم عربوں میں یہ بھی رواج تھا کہ اختصار کے لیے بعض حروف حذف کردیتے تھے۔ مثال کے طور پرگرامر کے اعتبار سے  اصل لفظ باسم اللہ (اللہ  کے نام سےہے ابتدا) مگر قرآن میں اسے بسم اللہ لکھا گیا۔اسی طرح قدیم عرب  بعض اوقات  کتابت میں ایسی جگہ ہمزہ(الف) داخل کردیتےتھے جہاں بظاہر اس کی ضرورت نہیں ہوتی تھی مگر چونکہ اس کے بعد ہمزہ آرہی ہوتی ہے اس لیے وہ اس سے پہلے الف داخل کردیتے۔ جیسے  و َجاِیٔ کو بظاہر ایسے لکھنا چاہیے تھا وَجیِٔ مگر صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم نے اسے و َجاِیٔ لکھنا بہتر سمجھا۔اسی طرح قدیم عرب  کبھی کبھی ملتی جلتی آواز والے حروف کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کر لیتے تھے۔جیسے [ہ] اور [ح]،  [ت] اور [ط]، [س] اور [ص]، [ظ] اور [ض] ۔ مثال کے طورپر الصراط کا ایک لہجہ السراط بھی ہے، تاہم صحابہ کرام ؓ نے قرآن میں حجازی رسم الخط  کے مطابق  الصراط لکھا۔ اسی طرض وما ھو علی االغیب بضنین میں بضنین اور بظنین دو قرآتیں منقول ہیں مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے  مصحف عثمانی میں بضنین  لکھا۔ اسی طرح  قدیم عرب بعض اوقات تنوین کی جگہ نون اور نون کی جگہ تنوین بھی استعمال کرلیتے تھے۔  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اتفاق کے ساتھ سورۃ العلق میں  لنسفعاً   بالناصیۃ لکھا  ہے۔ اگرچہ عربی گرامر کی رو سے یہ لفظ اصل میں  لنسفعن ہے، لیکن چونکہ قرآت اور معنیٰ میں کوئی فرق نہیں پڑتا  توصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے  لنسفعاً لکھنا پسند کیا۔ یقیناً یہ رسول اکرم ﷺ کی تعلیم کی روشنی میں کیا گیا، کیونکہ کاتبین رسول نے بھی اسے ایسے ہی لکھا تھا۔اس طرح کی مثال ایک درود شریف کی روایت میں بھی ہے۔ اللھم صل علی محمدِن النّبی الامی میں تنوین کی جگہ نون لکھا گیا ہے۔

یہ جتنی مثالیں ہم نے دی ہیں ان میں سےکسی بھی مثال پر  کتابت کی ’’غلطی‘‘ کا لفظ استعمال کرنا درست نہیں چہ جائے کہ اسے گرامر کی غلطی قرار دے دیا جائے۔ کاتب ست غلطی کا امکان ہوتا ہے اسی لیے طباعت سے پہلے قرآنی نسخوں کی پروف ریڈنگ کی جاتی ہے،  کتابت کی غلطی کو کاتب کی طرف منسوب کیا جاسکتا ہے، مگر گرامر کی غلطی کس کی غلطی ہوتی ہے؟ ظاہر ہے گرامر کی غلطی کو کاتب کی بجائے متکلم کی غلطی قرار دیا جاتا ہے۔کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں گرامر کی غلطیاں کی ہیں معاذاللہ؟ ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر نقص سے پاک ہے اور اس کا مقدس کلام بھی ہر نقص سے پاک ہے۔ لہٰذا یہ ممکن ہی نہیں کہ قرآن حکیم میں گرامرکی کوئی غلطی ہو۔مذکورہ بالا مثالوں میں سے کوئی بھی لفظ جو قرآن  کے معیاری نسخوں میں موجود ہے وہ ہر لحاظ سے عرب لغت کے مطابق ہے اور اسے غلط قرار دینا خود بہت بڑی جسارت ہے۔قرآن کا جو معیاری رسم الخط یعنی خط حجازی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ سے چلا آرہا ہے  قرآن کو اسی رسم الخط میں لکھنا چاہیے۔ اگرچہ بعض علما نے بعض دوسرے  رسم الخط میں بھی قرآن لکھنے کی اجازت دی ہے،مگر راجح قول یہی ہے کہ قرآن حکیم کو صرف حجازی رسم الخظ میں لکھا جائے تاکہ خوامخواہ مغالطے جنم نہ لیں۔واضح رہے کہ خط کوفی جو کہ خط حجازی کے بعد ایجاد ہوا، وہ خط حجازی ہی کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔خظ حجازی کی ہی  ایک ترقی یافتہ شکل خط نَسخ ہے۔خط کوفی اور خط نسخ پہلی صدی ہجری میں ہی منصۂ شہود پر آگئے تھے، جن میں کتابت کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اجازت دی تھی۔ البتہ خط ثلث بہت بعد میں ایجاد ہوا۔ اس لیے خط ثلث میں قرآن کے نسخے لکھنے کے بارے میں علما کا اختلاف ہے۔ پس قرآن کوخط حجازی، خط کوفی، اور خط نسخ کے سوا  کسی دوسرے رسوم میں لکھنے سے سے اجتناب کرنا چاہیے۔جب قرآن کو عربی زبان کے ہی بعض رسوم میں لکھنے کی اجزت نہیں تو اے کسی دوسری زبان میں لکھنے کی اجازت قطعاً نہیں دی جا سکتی۔ لہٰذا قرآن حکیم کو رومانائزڈ سکرپٹ میں لکھنا جائز نہیں۔ اگر کسی ضرورت کے تحت کسی دوسری زبان میں قرآن لکھنا پڑ ہی جائے تو اسے قرآن نہ کہا جائے ۔ مثال کے طور پر  بعض لوگ  بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کو یو ں لکھتے ہیں:

Bismillah al-Rahman al-Rahim.

واضح رہے کہ اس رومانائزڈ عبارت کو قرآن نہیں کہا جائے گا۔ اسی طرح ہمارے ہاں رواج ہے  بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی بجائے 786 یا ۷۸۶ لکھتے ہیں جو کہ غلط ہے۔ یہ عدد  بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے حروف کی عددی قیمت کا مجموعہ ضرور ہے مگر اس کا متبادل نہیں ہوسکتا۔

غرض قرآن کو ویسے ہی  لکھا جائے گا جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے اتفاقِ رائے سے لکھا ہے،  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد گرامر کے جو قواعد مرتب کیے گئے ہیں قرآن  حکیم کے  کسی لفظ کو بھی  ان قواعد کی رو سے غلط قرار نہیں دیا جائے گا۔  جیسا کہ پہلے مذکور ہوا کہ عربی گرامر کا اصل ماخذ قرآن ہی ہے، لہٰذا عام طور پر گرامر کے قواعد اور قرآن حکیم میں مطابقت پائی جاتی ہے، البتہ گنتی کے چند الفاظ ہیں جن کے بارے میں  عربی لغت کی تاریخ سے ناواقف لوگوں کو شبہہ ہوتا ہے کہ شاید وہ گرامر سے مطابقت نہیں رکھتے۔ جان لیجیے کہ ایسا نہیں ہے، قرآن حکیم قدیم عربی زبان یعنی عربی معلیٰ کے عین مطابق لکھا گیا ہے، جس میں گرامر کی کوئی غلطی موجود نہیں ہے۔الحمدللہ علیٰ ذالک ۔گزارش یہ ہے کہ قرآن و سنت کے متعلق جب بھی کوئی غیر معمولی  یا انوکھی بات سنیں تو اس کی تصدیق علمائے کرام سے ضرور کریں۔یہی ایمان کی سلامتی کی راہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے