
رسول اکرم ﷺ پر پہلی وحی کا قصہ
از قلم ساجد محمود انصاری
قرآن وسنت کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ وحی کی دو بنیادی قسمیں ہیں، یعنی وحی جلی اور وحی خفی۔ قرآن حکیم کے کلمات و آیات وحی جلی ہیں، جبکہ اس کے علاوہ نبی ﷺ پر جو وحی نازل ہوئی اسے وحی خفی کہا جاتا ہے۔ قرآن حکیم میں صراحت ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل ہونے سے بہت پہلے ان پر وحی کا نزول شروع ہوگیا تھا۔ جب آپ اپنی زوجہ محترمہ کے ساتھ مدائن سے مصر جاتے ہوئے صحائے سینا سے گزر رہے تھے تو وادی طویٰ میں آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی لیکن یہ وحی تورات میں شامل نہیں۔
ظہورِ نبوّت
رسول اکرم ﷺ کی نبوت کا دنیا میں ظہور قرآن حکیم کے نزول سے بہت پہلے ہوگیا تھا۔رسول اکرم ﷺ پر وحی کے نزول کی ابتدا قرآن حکیم کے نزول سے کئی ماہ پہلے ہوچکی تھی۔سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اسے یوں بیان فرمایا ہے:
أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ ، فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ وَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ
(صحیح البخاری: رقم 3،صحیح مسلم: رقم 160، مسند احمد: رقم 25202 )
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا اچھے سچے پاکیزہ خوابوں سے ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں جو کچھ دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح صحیح اور سچا ثابت ہوتا۔ پھر من جانب قدرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنہائی پسند ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار حرا میں خلوت نشینی اختیار فرمائی۔
اس سے پہلے کہ ہم قرآنی وحی کے نزول کی تفصیل کی طرف بڑھیں، یہ جان لینا چاہیے کہ نزول قرآن سے بہت پہلے رسول اکرم ﷺ کو اپنا نبی ہونا معلوم ہوچکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سچے خوابوں کے ذریعے آپ ﷺ کو ان کی نبوت و رسالت کی بشارت دے دی تھی۔
صحیح احادیث میں مذکور ہے کہ نزول قرآن سے بہت پہلے مکہ کے شجروحجر نبی ﷺ کو سلام کیا کرتے تھے۔
إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ
(صحیح مسلم: رقم 2277، مسند احمد: رقم 20828، سنن الدارمی: رقم 20)
ترجمہ: میں آج بھی اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو بعثت سے پہلےمجھے سلام کیا کرتا تھا۔
سیرت ابن اسحاق اور سیرت ابن ہشام میں پتھر کے ساتھ ساتھ درختوں کا بھی ذکر ہے کہ وہ آپ ﷺ کو السلام علیک یا رسول اللہ کہہ کر سلام عرض کیا کرتے تھے۔ سیرت ابن ہشام کی شرح الروض الانف میں علامہ عبدالرحمٰن السہیلیؒ نے لکھا ہے کہ جب نبی ﷺ خانہ کعبہ کا طواف فرماتے تھے تو حجر اسود آپ کو سلام کیا کرتا تھا۔بے شک یہ سب نبی ﷺ کی نبوت و رسالت کے بین دلائل ہیں، مگر بدقسمتی سے ایمان سے محروم لوگ ان معجزات کو تسلیم کرنے کی بجائے ان کا مذق اڑاتے ہیں اور نزول وحی کے سارے واقعے کا انکار کرتے ہیں۔ ایمان سے محروم ان لوگوں میں جاوید احمد غامدی بھی سرفہرست ہے، جو نہ صرف حدیث رسول ﷺ کو حجت شرعی ماننے سے انکاری ہے بلکہ نبی ﷺ کے مسلمہ معجزات مثلاً معراج، شق القمر وغیرہ کا بھی منکر ہے۔
حال ہی میں اپنی تازہ وڈیوز میں اس نے غارِ حرا میں نزول قرآن سے متعلق صحیح و متواتر احادیث کا انکار کرکے انہیں اپنی دانست میں خلاف قرآن قرار دیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے یہ وڈیو: https://www.youtube.com/watch?v=15y9kqvjl-8&t=2225s
نزولِ قرآن
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا غار حرا میں پہلی قرآنی وحی کی تفصیل بیان فرماتی ہیں:
وَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ ، فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّى جَاءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ ، فَقَالَ : اقْرَأْ ، قَالَ : مَا أَنَا بِقَارِئٍ ، قَالَ : فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي ، فَقَالَ : اقْرَأْ ، قُلْتُ : مَا أَنَا بِقَارِئٍ ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي ، فَقَالَ : اقْرَأْ ، فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ { 1 } خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ { 2 } اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ { 3 } سورة العلق آية 1-3 ، فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ ، فَدَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي ، فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ ، فَقَالَ لِخَدِيجَةَ ، وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ : لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي ، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ : كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا ، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ابْنَ عَمِّ خَدِيجَةَ ، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعِبْرَانِيَّ ، فَيَكْتُبُ مِنَ الْإِنْجِيلِ بِالْعِبْرَانِيَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ : يَا ابْنَ عَمِّ ، اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ ، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ : يَا ابْنَ أَخِي ، مَاذَا تَرَى ، فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَأَى ، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ : هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نَزَّلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا ، لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا إِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ ، قَالَ : نَعَمْ ، لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ، ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ وَفَتَرَ الْوَحْيُ .
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار حرا میں خلوت نشینی اختیار فرمائی اور کئی کئی دن اور رات وہاں مسلسل عبادت اور یاد الٰہی و ذکر و فکر میں مشغول رہتے۔ جب تک گھر آنے کو دل نہ چاہتا توشہ ہمراہ لیے ہوئے وہاں رہتے۔ توشہ ختم ہونے پر ہی اہلیہ محترمہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے اور کچھ توشہ ہمراہ لے کر پھر وہاں جا کر خلوت گزیں ہو جاتے، یہی طریقہ جاری رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حق منکشف ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا ہی میں قیام پذیر تھے کہ اچانک جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اے محمد! پڑھو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فرشتے نے مجھے پکڑ کر اتنے زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی، پھر مجھے چھوڑ کر کہا کہ پڑھو، میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس فرشتے نے مجھ کو نہایت ہی زور سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا کہ پڑھ! میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ فرشتے نے تیسری بار مجھ کو پکڑا اور تیسری مرتبہ پھر مجھ کو بھینچا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا کہ پڑھو اپنے رب کے نام کی مدد سے جس نے پیدا کیا اور انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا، پڑھو اور آپ کا رب بہت ہی مہربانیاں کرنے والا ہے۔ پس یہی آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام سے سن کر اس حال میں غار حرا سے واپس ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل اس انوکھے واقعہ سے کانپ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کمبل اڑھا دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈر جاتا رہا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ سنایا اور فرمانے لگے کہ مجھ کو اب اپنی جان کا خوف ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھارس بندھائی اور کہا کہ آپ کا خیال صحیح نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! آپ کو اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں، آپ تو کنبہ پرور ہیں، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بےمثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں۔ ایسے اوصاف حسنہ والا انسان یوں بے وقت ذلت و خواری کی موت نہیں پا سکتا۔ پھر مزید تسلی کے لیے خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو ان کے چچا زاد بھائی تھے اور زمانہ جاہلیت میں نصرانی مذہب اختیار کر چکے تھے اور عبرانی زبان کے کاتب تھے، چنانچہ انجیل کو بھی حسب منشائے خداوندی عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے۔ ( انجیل سریانی زبان میں نازل ہوئی تھی پھر اس کا ترجمہ عبرانی زبان میں ہوا۔ ورقہ اسی کو لکھتے تھے ) وہ بہت بوڑھے ہو گئے تھے یہاں تک کہ ان کی بینائی بھی رخصت ہو چکی تھی۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بیان کیے اور کہا کہ اے چچا زاد بھائی! اپنے بھتیجے ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی زبانی ذرا ان کی کیفیت سن لیجیئے وہ بولے کہ بھتیجے آپ نے جو کچھ دیکھا ہے، اس کی تفصیل سناؤ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے از اول تا آخر پورا واقعہ سنایا، جسے سن کر ورقہ بے اختیار ہو کر بول اٹھے کہ یہ تو وہی ناموس ( معزز راز دان فرشتہ ) ہے جسے اللہ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی دے کر بھیجا تھا۔ کاش، میں آپ کے اس عہد نبوت کے شروع ہونے پر جوان عمر ہوتا۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تعجب سے پوچھا کہ کیا وہ لوگ مجھ کو نکال دیں گے؟ ( حالانکہ میں تو ان میں صادق و امین و مقبول ہوں ) ورقہ بولا ہاں یہ سب کچھ سچ ہے۔ مگر جو شخص بھی آپ کی طرح امر حق لے کر آیا لوگ اس کے دشمن ہی ہو گئے ہیں۔ اگر مجھے آپ کی نبوت کا وہ زمانہ مل جائے تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا۔ مگر ورقہ کچھ دنوں کے بعد انتقال کر گئے۔ پھر کچھ عرصہ تک وحی کی آمد موقوف رہی۔
یاد رہے کہ غارِ حرا میں نزولِ قرآن کے وقت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ابھی پیدا نہیں ہوئی تھیں، لہٰذا وہ اپنے مشاہدات بیان نہیں کررہیں۔نہ ہی انہوں نے یہ وضاحت کی ہے کہ انہوں نے یہ واقعہ نبی اکرم ﷺ سے سناہے۔ اکثر محدثین نے اس حدیث کو مراسیلِ عائشہ رضی اللہ عنہا میں شمار کیا ہے۔ یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ قصہ کسی ایسے صحابی سے سنا ہے جو کہ اس واقعہ کے وقت موجود تھے ۔ امکان ہے کہ انہوں نے یہ واقعہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا سے سنا ہوگا۔ واللہ اعلم
جب ہم غارِ حرا میں نزول ِقرآن سے متعلق دستیاب روایات کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ روایت بہت اختصار کے ساتھ بیان کی گئی ہے اورمکمل واقعے کے بعض حصوں کی نہ صرف ترتیب بدل گئی ہے بلکہ اصل واقعہ کی بہت سی اہم تفصیلات حذف ہوگئی ہیں۔یقیناً اس سہو کی نسبت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف کرنا درست نہیں بلکہ یہ سہو بعد کے کسی راوی سے سرزد ہوا ہے۔ یہ تفصیلات مغازی ابن اسحاق اور سیرت ابن ہشام جیسی کتب ِ سیرت میں منقول ہیں۔ان روایات کو سامنے رکھے بغیر پہلی وحیٔ قرآن کے نزول کی مکمل اور درست تصویر سامنے نہیں آتی بلکہ بہت سے اشکالات جنم لیتے ہیں۔
کونسی سُورت پہلے نازل ہوئی؟
امام محمد بن اسحاق ؒنے امام علی علیہ السلام کے شاگرد ابو میسرہ عمرو بن شرحبیل الکوفی ؒ کے واسطہ سے یہ روایت نقل کی ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: جب میں اکیلا ہوتا ہوں تو ایک آواز سنتا ہوں، اور خدا کی قسم! مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ (کوئی ناپسندیدہ) معاملہ نہ ہو۔
اس پر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: "معاذ اللہ! اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں کرے گا۔ خدا کی قسم! آپ امانت کو ادا کرتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں اور سچ بولتے ہیں۔”
پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہ واقعہ بیان کیا اور کہا: اے عتیق! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ورقہ بن نوفل کے پاس جاؤ۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور کہا: "آئیے، ہم ورقہ کے پاس چلتے ہیں۔”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آپ کو کس نے بتایا؟”
انہوں نے کہا: "خدیجہ نے۔”
پھر دونوں ورقہ کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ بیان کیا: جب میں اکیلا ہوتا ہوں تو اپنے پیچھے سے ایک آواز سنتا ہوں: ‘یا محمد! یا محمد!’ اور میں خوفزدہ ہو کر بھاگ پڑتا ہوں۔
ورقہ نے کہا: "ایسا نہ کیجیے، جب وہ (آواز دینے والا) آپ کے پاس آئے تو مضبوطی سے کھڑے رہیے اور سنیں کہ وہ کیا کہتا ہے، پھر میرے پاس آ کر مجھے اطلاع دیں۔
جب دوبارہ وہ ندا آئی تو اس نے کہا: "اے محمد! کہو
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔۔۔۔۔۔۔۔ وَلَا الضَّآلِّينَ
پھر کہنے لگا کہ لا إله إلا الله (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) کہو۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ورقہ کے پاس گئے اور انہیں ساری بات بتائی، تو ورقہ نے کہا: مبارک ہو! پھر مبارک ہو! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہی ہستی ہیں جس کی بشارت عیسیٰ ابن مریم نے دی تھی، اور آپ بالکل موسیٰ جیسے ہیں، اور آپ ایک نبی ہیں جو اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ اور آپ کو عنقریب جہاد کا حکم دیا جائے گا۔ اگر میں اس وقت زندہ رہا تو یقیناً آپ کے ساتھ جہاد کروں گا۔
جب ورقہ کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں نے اس قس (ورقہ) کو جنت میں ریشمی لباس پہنے ہوئے دیکھا کیونکہ وہ مجھ پر ایمان لایا اور میری تصدیق کی۔
(سیرت ابن اسحاق، الروض الانف:جلد 1، صفحہ 449، دارالحدیث قاہرہ)
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے یہ روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کے زمانے کے حالات بیان فرماتے ہوئے کہا کہ ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس وقت اللہ پاک کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں۔ يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ
(اے لحاف اوڑھ کر لیٹنے والے! اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ اور گندگی سے دور رہ) اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی۔
(صحیح البخاری: رقم 4، مسند احمد: رقم 15035)
ان سب روایات کو جمع کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ پر جب سچے خوابوں کی شکل میں وحی نازل ہونا شروع ہوئی تو آپ ﷺ غارِ حرا میں خلوت نشین ہوگئے۔ اس دوران گھر آتے جاتے جب کبھی سیدنا جبریل علیہ السلام آپ کو راہ چلتے سلام کرتے تو آپ خوفزدہ ہوکر تیز تیز چلنے لگتے۔ایک روز سیدنا جبریل علیہ السلام نے آپ کو ﷺ کو سلام عرض کیا تو آپ ٹھہر گئے اور ان کی طرف متوجہ ہوئے ، اس وقت انہوں نے سورۃ الفاتحہ آپ ﷺکو تعلیم فرمائی۔
ان روایات کی بناپر علما میں اختلاف ہے کہ سب سے پہلے کونسی سورت نازل ہوئی، بعض علماکے نزدیک سورۃ العلق سب سے پہلے نازل ہوئی، بعض کے نزدیک یہ شرف سورۃ الفاتحہ کو حاصل ہے جبکہ کچھ علما کی رائے ہے کہ سب سے پہلے سورۃ المدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ ہماری رائے یہ ہے کہ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ العلق کی ابتدائی آیات ایک ہی دن نازل ہوئیں۔ پہلے غار حرا میں سورۃ العلق کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں اور پھر غار حرا سے گھر واپس جاتے ہوئے راستے میں سورۃ الفاتحہ نازل ہوئی۔ جبکہ فترۃ الوحی کے بعد سورۃ المدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ ہمارے نزدیک فترۃ الوحی کا دوارنیہ صرف چند دنوں پر محیط تھا۔سورۃ المدثر کے نزول کے بعد ہی نبی ﷺ نے باقاعدہ تبلیغ کا آغاز فرمایا۔تاہم ابتدا میں آپ نے صرف انفرادی تبلیغ کا اہتمام فرمایا۔واللہ اعلم بالصواب
کیا نبی اکرم ﷺ کو اپنے نبی ہونے کے بارے میں شک تھا؟
ان روایات پر جاوید احمد غامدی نے اپنے مغربی آقاؤں مستشرقین کا ہی یہ اعتراض وارد کیا ہے کہ ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کو اپنے نبی ہونے کے بارے میں تردد یا شک تھا۔ مستشرقین کا یہ اعتراض محض لغو ہے۔ کیوں کہ انہی احادیث میں صراحت ہے کہ نبی ﷺ کو سچے خوابوں کی شکل میں ابتدا میں ہی وحی خفی سے نوازا گیا تھا جس کا مقصد نبی ﷺ کے قلب و ذہن کو قرآن جیسی عظیم شئے کے تحمل کے لیے تیار کرنا تھا۔ارشادِ باری تعالی ٰہے:
لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ
(سورۃ الحشر: آیت 21)
ترجمہ:اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو ضرور تم اسے ڈرا ہوا، اللہ کے خوف سے پاش پاش دیکھتے اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ سوچیں سمجھیں۔
جب اتنے عظیم الشان قرآن کے نزول سے پہاڑ کے ریزہ ریزہ ہونے کا عندیہ دیا گیا ہے تو خود نبی ﷺ کی کیا کیفیت ہوگی؟ نبی ﷺ کی جو کیفیت حدیث میں بیان کی گئی ہے وہ خشیتِ الٰہیہ کے باعث تھی نہ کہ شک یا تردد کی وجہ سے۔نبی ﷺ کو اپنے نبی ہونے کا علمِ ضروری حاصل تھا۔ہاں یہ ممکن ہے کہ بالکل ابتدا میں فرشتے سے ملاقات سے پہلے آپ کو کچھ تجسس رہا ہو، مگر فرشتے سے ملاقات کے بعد یہ تجسس بھی ختم ہوگیا۔نبی ﷺ کا غارِ حرا میں خلوت نشین ہونا بھی اسی تجسس کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔تاہم تجسس کو تردد یا شک کا نام دینا زیادتی ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر نبی ﷺ کو اپنے نبی ہونے کے بارے میں تردد نہیں تھا تو وہ جناب ورقہ بن نوفل کے پاس کیا لینے گئے تھے؟ نبی ﷺ کی جناب ورقہ بن نوفل سے ملاقات کسی تردد کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تردد ختم کرنے کے لیے تھی۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو وہم تھا کہ خدانخواستہ کہیں کوئی آسیب تو نبی ﷺ کو نہیں چمٹ گیا۔ ورقہ بن نوفل نے ان کا یہ وہم نبی ﷺ کی نبوت کی تصدیق کرکےدور کیا۔
نبی اکرم ﷺ خوفزدہ کیوں تھے؟
غامدی نے سورۃ النمل کی آیات کی بنا پر مذکورہ روایات پریہ اعتراض بھی اٹھایا ہے کہ نبی ﷺ خوفزدہ کیسے ہوسکتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انبیا علیہم السلام اپنے رب کے حضور خوفزہ نہیں ہوتے؟ نبی ﷺ بہر کیف ایک بشر تھے اور ان کا ابتدائی طور پر اجنبی غیبی آوازوں سے کچھ پریشان ہوجانا عین بشری تقاضہ ہے۔البتہ فرشتے سے ملاقات کے بعدآپ کی جو کیفیت تھی وہ خشیتِ الٰہیہ کی جہ سے تھی۔ آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ یعنی مجھے خوف لاحق ہے کہ کیا میں فرائض نبوت کما حقہ انجام دے سکوں گا؟ کہیں اللہ تعالیٰ فرائض میں کسی کوتاہی کی وجہ سے مجھے سزا نہ دے۔
سورۃ النمل کی جن آیات کا غامدی نے حوالہ دیا ہے اس میں تو مذکور ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے معجزہ سے ڈر کر ایسے بھاگے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ملاحظہ فرماےئں:
مُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ وَ اَلْقِ عَصَاكَؕ-فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ
(سورۃ النمل: آیت 9-10)
ترجمہ: اے موسیٰ !بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں جوعزت والا حکمت والا ہے۔ اور اپنا عصا (زمین پر) ڈال دو توجب آپ نے اسے لہراتے ہوئے دیکھا کہ گویا سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر چلے اور مڑ کر نہ دیکھا۔ (ہم نے فرمایا) اے موسیٰ! ڈرو نہیں ، بیشک میری بارگاہ میں رسول ڈرتے نہیں۔
’’بیشک میری بارگاہ میں رسول ڈرتے نہیں‘‘ کو دلیل بنا کر یہ دعویٰ کرنا کہ مذکورہ بالا روایات میں نبی ﷺ کی جو کیفیت بیان کی گئی ہے وہ قرآن حکیم کے خلاف ہے، نری جہالت ہے۔کیا سیدنا موسیٰ علیہ السلام پہلی وحی کے نزول کے موقعہ پراللہ تعالیٰ کا معجزہ دیکھ کر خوفزدہ نہیں ہوئے؟ اگر یہ ایک نبی کی شان کے خلاف نہیں تو خشیتِ الٰہیہ سے کپکپی طاری ہونا نبی ﷺ کی شان کے خلاف کیسے ہوگیا؟ غامدی نے یہاں پر مذکوہ احادیث کو خلاف قرآن قرار دے کر محض ضد اور انانیت کا ثبوت فراہم کیا ہے۔







