از قلم ساجد محمود انصاری
قرآن حکیم سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات میں بے مثال اور یکتا و یگانہ ہے۔اسی لیے اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی مخلوق سے تشبیہہ دینا کفر ہے۔جو گمراہ لوگ اللہ تعالیٰ کو مخلوق سے تشبیہہ دیتے ہیں انہیں مجسمہ کہا جاتا ہے۔
یہودونصاریٰ بھی مجسمہ ہیں کیوں کہ ان کی تحریف شدہ تورات کی پہلی کتاب (کتاب پیدائش کے باب اول)) میں لکھا ہے کہ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔
صحیحین میں مذکور ایک حدیث سے ایسا ہی مفہوم کشید کرنے کی کوشش کی جاتی ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا : اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی مخصوص ہیت پرپیداکیا، ان (کے قد) کی لمبائی ساٹھ ہاتھ (90 فٹ)تھی۔
(صحیح البخاری: رقم 6227، صحیح مسلم: رقم 2841)
حدیث کے ابتدائی الفاظ بظاہر تورات کے مذکورہ بالا الفاظ سے ملتے جلتے ہیں مگر حقیقت کے اعتبار سے ان میں کوئی مماثلت نہیں بلکہ یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو معجزانہ طور پر بالکل منفرد طریقے سےپیدا فرمایا۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو پہلے ننھا سا بچہ ہوتا ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی جسامت میں اضافہ ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو جب پیدا فرمایا تو ایک ایسے جوان کی ہیئت میں پیدا فرمایا جس کا قد ساٹھ ہاتھ یعنی 90 فٹ تھا۔ اس حدیث سے یہ مطلب ہرگز نہیں نکلتا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنی ذاتی صورت پر پیدا فرمایا تھا۔ واللہ باللہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔
بعض مسلم علما نے اس حدیث کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ انسان خدا کا پرتو ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے یہ دعویٰ یہودونصاریٰ سے مستعار لیا ہے۔ اگرچہ وہ اپنے اس دعویٰ کی تاویل بھی کرتے ہیں کہ اس سے ان کی مراد خدا اور انسان کی صفات میں ظاہری مشابہت ہے، یعنی خدا بھی دیکھتا اور سنتا ہے انسان بھی دیکھتا اور سنتا ہے۔ جبکہ دونوں کے دیکھنے اور سننے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ حدیث مبارکہ سے یہ قطعی ثابت نہیں ہوتا کہ انسان خدا کا پرتو ہے، کیوں کہ یہاںسیدنا آدم علیہ السلام کو ان کی مخصوص ہیئت پر تخلیق کرنا مراد ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کی صورت پر۔جن علما نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی صورت پر پیدا کیے جانے والے مطلب کو درست سمجھا ہے بلکہ اس مطلب کے انکار کو کفر کہا ہے ہمارے نزدیک ان کی رائے درست نہیں۔تاہم ان کی تاویل کی وجہ سے ان کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔
امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی طرف بھی یہ قول منسوب کیا گیا ہے کہ وہ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ میں ضمیر ہا کا مرجع اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے۔ امام احمدبن حنبل ؒ مجسمہ ہرگز نہیں تھے بلکہ تجسیم کو کفر قرار دیتے تھے۔ لہٰذا یقیناً وہ بھی اپنے اس قول کے ظاہری معانی کی تاویل فرماتے تھے۔جیسا کہ امام قاضی ابو یعلیٰ الحنبلیؒ ابطال التاویلات میں فرماتے ہیں:
ويطلق القول فِي صورة آدم عَلَى صورته سُبْحَانَهُ لا عَلَى طريق التشبيه فِي الجسم والنوع والشكل والطول لأن ذَلِكَ مستحيل فِي صفاته
اور نبی ﷺ کے قول کی یہ مراد کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا تھا، سے ہماری مراد ان کے جسم، نوع، شکل یا قد کاٹھ میں مشابہت ہرگز نہیں ہے کیوں کہ اس سے صفات باری تعالیٰ میں استحالہ پیدا ہوتا ہے۔
(ابطال التاویلات، قاضی ابو یعلیٰ الحنبلیؒ: جلد 1، صفحہ 82)
امام قاضی ابو یعلیٰ الحنبلی ؒ کے اس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ امام احمد بن حنبل ؒ مذکورہ بالا حدیث کی تاویل فرمایا کرتے تھے، کیونکہ اگر ضمیر کو اللہ تعالی کی طرف راجع مان کر ظاہری معنیٰ مانا جائے تو تشبیہہ لازم آتی ہے، مگر قاضی ابو یعلیٰ ؒ نے صراحت کردی ہے کہ وہ اس کا ظاہری معنیٰ مراد نہیں لیتے، لہٰذاہمارے نزدیک اس قول کی بنیاد پر امام احمد بن حنبل ؒ یا حنابلہ کی تکفیر جائز نہیں کیوں کہ وہ تجسیم کے قائل ہی نہیں ہیں۔





