مئی 16, 2026
دَائِرَۃُ البُرُوج

دَائِرَۃُ البُرُوج

زمانہ قدیم سے انسان مشاہدہ کرتا آیا ہے کہ سورج ، چاند اور سیارے آسمان پر ایک مخصوص راستے پر ہی گردش کرتے نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ دورِ جدید کے  دوربینی مشاہدات سے بھی  اس قدیم مشاہدے کی تائید ہوتی ہے۔اس مخصوص راستے پر پس منظر میں نہایت روشن ستارے گڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان روشن ستاروں کو قرآن نے بُروج  (واحد: برج)  کا نام دیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَ

(سورۃ الحجر: آیت 16)

ترجمہ: اور ہم نے آسمان میں بروج پیدا کیے اور انہیں دیکھنے والوں کے لیے پرکشش بنایا۔

بروج ایسے ستاروں کو کہا جاتا ہے جو باقی ستاروں کی نسبت زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔ یہ بروج تمام آسمان پر پائے جاتے ہیں، تاہم جو بروج سورج، چاند اور سیاروں کی گزرگاہ پر دکھائی دیتے ہیں وہ ہمیشہ انسانوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے ہیں۔ قدیم  عرب، مصر، یونان ، بابل، چین اور ہندوستان  میں ان بروج کو غیر معمولی حیثیت حاصل رہی ہے۔ بعض تہذیبوں میں تو ان کی باقاعدہ پرستش ہوتی رہی ہے۔ اسلام درسِ توحید دیتا ہے اس لیے اس میں ستارہ پرستی کی کوئی گنجائش نہیں۔ تاہم قرآن حکیم نے خود راہنمائی فرمائی ہے کہ بروج محض دل لگی کے لیے پیدا نہیں کیے  گئے بلکہ ان کی تخلیق کا مقصد اس سے عظیم تر ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۙ-وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَؕ-وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ

(سورۃالنحل: آیت 12)

اور اس نے تمہارے لیے مُسَخَّر(تابع) کیے رات اور دن اور سورج اور چاند اور ستارے اس کے حکم سے کام میں لگے ہوئے  ہیں،  بےشک اس میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اجرام سماویہ میں قائم نظم و ضبط پر غوروفکر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں واضح ہوکر ہمارے سامنے آئیں۔   پچھلی ایک صدی میں ہونے والے سائنسی انکشافات نے جہاں اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے بہت سے رازوں سے پردہ اٹھایا ہے وہیں یہ حقیقت بھی طشت ازبام ہوگئی ہے  کہ انسان کائنات میں جتنا زیادہ کھوج لگاتا جاتا ہے، زمین پر موجود خزانے انسانوں کی دسترس میں آتے جاتے ہیں۔

امام قرطبیؒ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

والشمس والقمر والنجوم مسخرات بأمره أي مذللات لمعرفة الأوقات ونضج الثمار والزرع والاهتداء بالنجوم في الظلمات

ترجمہ: سورج، چاند اور ستارے امر الہٰی سے تمہارے تابع ہیں تاکہ تم ا وقات کی پہچان کرسکو اور پھلوں اور فصلوں کے لیے اوقات جان سکو اور ستاروں سے اندھیرے میں راستے معلوم کرسکو۔

(تفسیر القرطبی) یہ وہ کام ہیں جو علمِ فلکیات (ایسٹرانومی) کے بنیادی مقاصد میں سے ہیں۔انہیں مقاصد کے لیے علم فلکیات کی تمام تحقیقات و اکتشافات  کی جاتی ہیں۔دائرۃ البروج کی معرفت اور اس کے بارے میں علوم حاصل کرنے کا مقصد وہی ہے جو قرآن میں بیان کیے گئے ہیں جن کا خلاصہ امام قرطبی ؒنے اپنے الفاظ میں بیان فرمایا۔

کُرہ سماویہ

آسمان کا بغور مشاہدہ کیا جائے بالخصوص رات کے وقت تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے آسمان ایک گنبد کی شکل میں ہے۔تاہم یہ ایک نا مکمل مشاہدہ ہے۔ جب ہم روئے زمین کے تمام ماہرین فلکیات کے مشاہدات کو ملا کر مجموعی نتیجہ اخذ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے زمین ایک کرہ ہے اور اسے چاروں طرف سے ستاروں نے گھیر ا ہوا ہے۔ جدید مشاہدات سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ زمین ایک بہت بڑی کہکشاں کا حصہ ہے جسے ملکی وے یا دودھیا کہکشاں کہتے ہیں۔ستارے ہماری زمین سے بہت فاصلے پر ہیں، تاہم زمین کے قریب ترین اجرام فلکی میں چاند سرِ فہرست ہے جو زمین کے نہایت قریب ہے۔ اس کے بعد کچھ سیارے اور سورج زمین کے قریب ترین پڑوسیوں میں شامل ہیں۔سورج، چاند ،ستارے اور سیارے بادی النظر میں ایک کرے کے اندر محیط لگتے ہیں۔ اس کرہ کے  ماہرین فلکیات کرہ سماویہ یا سلیشیل سفیئر کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ کرہ سماویہ کی اصطلاح آسمان پر ستاروں کے مقامات یعنی محل وقوع کے تعین میں مدد دیتی ہے، اس لیے جدید فلکیات میں بھی کرہ سماویہ کی اصطلاح متروک نہیں ہوئی۔

کرہ سماویہ

کرہ سماویہ میں زمین کی طرح شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب کی جانب ویسے ہی فرضی خطوط کھینچےگئے ہیں جیسے زمین پر خطوط طول البلد اور خطوط عرض البلد کھینچے گئے ہیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ انسانی تاریخ میں آسمان پر ستاروں کے محل وقوع معلوم کرنے کے لیے سماوی خطوط پہلے کھینچے گئے تھے اور بعد میں ان کی نقل میں ہی  انہی کی مدد سےزمین پر خطوط طول البلد اور خطوط ارض البلد کھینچے گئے تھے۔ مشرق سے مغرب کی جانب کھینچے گئے خطوط کرہ سماویہ کے خط استوا (سلیشیل ایکوئیٹر) کے متوازی کھینچے گئے ہیں  جوکہ اجرام فلکی کے خط استوا سے زاویائی فاصلے (اینگولر  ڈِسٹینس)کو ظاہر کرتے ہیں۔ خط استوا کرہ سماویہ کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے، شمالی حصے کو نصف کرہ شمالی اور جنوبی حصے کو نصف کرہ جنوبی کہتے ہیں۔جوں جوں  کرہ سماویہ کے خط استوا  سے دور جاتے ہیں ستاروں کا جھکاؤ بڑھتا جاتا ہے۔ اس جھکاؤ کو فلکیاتی اصطلاح میں مَیل ( ڈِکلائنیشن) کہتے ہیں۔خط استوا سماویہ کے متوازی کھینچے گئے خطوط کو اسلامی فلکیات میں عرض الافلاک بھی کہتے ہیں۔ ان شرقاً غرباً کھینچے گئے خطوط یعنی عرض الافلاک کی تعداد 180 ہے۔ جبکہ شمال سے سے جنوب کی جانب کھینچے گئے خطوط کو ابعاد یا طول الافلاک(رائٹ  اسینشن) کہا جاتا ہے جو کہ خط استوا کو  360 مقامات پر قطع کرتے ہیں کیونکہ ان خطوط کی تعداد 360 ہے۔خط استوا چونکہ ایک دائرہ بناتا ہے اور ایک دائرے  میں 360 درجے ہوتے ہیں اس لیے طول الافلاک کی تعداد 360 ہے طول الافلاک بھی بنیادی طور  پرزاویے ہی ہیں اور ان کی پیمائش بھی مَیل کی طرح  درجات (ڈگریز) میں ہی کی جاتی ہے، تاہم سہولت کے لیے ستاروں کے محل وقوع کو درجات  کی بجائے ساعات (گھنٹے یا آورز) میں ناپا جاتا ہے۔ ایک ساعت 15 درجوں کے مساوی سمجھی جاتی ہے۔  ساعت کا تعلق کرہ سماویہ کی ظاہری حرکت کے ساتھ ہے۔رات کو آسمان کا مشاہدہ کریں تو ایسا لگتاہے کہ سارا آسمان مشرق سے مغرب کی طرف سفر کررہا ہے۔ آسمان کی اس ظاہری حرکت کو وقت کی پیمائش کے لیے استعمال کیا گیا ۔ آسمان کی ظاہری حرکت بتاتی ہے  کہ آسمان ایک دن رات میں ایک مکمل چکر پورا کرلیتا ہے۔ یعنی طلوع آفتاب کے فوراًبعد جو ستارے  مشرق سے طلوع ہوتے ہیں وہ اگلے روز دوبارہ اسی وقت  اسی مقام سےطلوع ہوتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ستاروں کو وقت کی پیمائش کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ جتنے وقت میں کرہ سماویہ پر موجود کوئی ستارہ یا سورج مشرق سے مغرب کی طرف 15 درجے حرکت کرتا ہے اسے ایک ساعت (گھنٹے) کا نام دیا گیا۔ کرہ سماویہ کے 360 طول الافلاک کو 15 پر تقسیم کریں تو کل  24 ساعات (گھنٹے) بنتی ہیں۔ یہی وہ 24 ساعات ہیں جن کی مدد سے زمین پر ٹائم زونز بنائے گئے ہیں۔بالفاظ دیگر ہمارے کلاک اصل میں ستاروں والی گھڑی کی نقل ہیں۔ قدیم زمانے میں ستاروں کے ذریعے وقت کی پیمائش کا عام رواج تھا۔ بالخصوص جزیرۃ العرب میں ستارہ شناسی کی بنیاد پر وقت کی پیمائش کی جاتی تھی۔

دائرۃ البروج

چوں کہ ہم دائرۃ البروج میں موجود ستاروں پر گفتگو کررہے ہیں اس لیے ان کے محل وقوع کو سمجھنے کے لیے مذکورہ بالا تفصیلات کا بیان کرناضروری تھا، ان تفصیلات کے بغیر ہم ستاروں یا بروج کے محل وقوع کو سمجھ نہیں سکتے۔ 

کرہ سماویہ میں سورج، چاند اور سیارے ایک مخصوص راستے پر سفر کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں جسے دائرۃ البروج کہا جاتا ہے۔دائرۃ البروج آسمان  یعنی کرہ سماویہ کا وہ حصہ ہے جس کے بارے میں قدیم ماہرین فلکیات نے بہت قیمتی معلومات فراہم کی ہیں، جن کی تائید عصری مشاہدات سے بھی ہورہی ہے۔

دائرۃ البروج  میں یوں تو کل ستاروںکی تعداد 364 ہے، تاہم ان میں سب سے نمایاں ستارے بروج کہلاتے ہیں۔ ان بروج کو منازل شمس وقمر بھی کہا جاتا ہے۔دائرۃ البروج میں کل 28 منزلیں ہیں، جن میں سورج ،چاند اور ستارے  گھومتے ہیں۔ چاند 28 دنوں میں یہ سب منزلیں گھوم لیتا ہے۔جبکہ 29ویں یا 30 ویں شام کو غروب آفتاب کے بعد مغربی افق پر ہلال کی شکل میں ظاہر ہوجاتا ہے۔یہ 28 منزلیں درج ذیل ہیں:

Al-Fara al-Moakhar الْفَرْعُ الْمُؤَخَّرُ

Al-Sharatan الشَّرَطَانُ

Al-Botain الْبُطَيْنُ

Al-Thuraya الثُّرَيَّا

Ad-Debaran الدَّبَرَانُ

Moqddam al-Dhirain مُقَدَّمُ الذِّرَاعَين

Al-Haq’ah الْهَقْعَةُ

Al-Han’ah الْهَنْعَةُ

Al-Nathrah النَّثْرَةُ

Al-Dhuwabah الذَّؤابَة  

Al-Tarf  الطَّرْفُ

Qalab al-Asad قَلبُ الاسَد

Adh-Dhubrah الزُّبْرَةُ

Al-Sarfah الصَّرْفَةُ

Al-Awwa  الْعَوَّاءُ

Al-Simak السِّمَاكُ

Al-Ghafr الْغَفْرُ

Al-Dhubanan الزُّبَانَان

Al-Eklil الْإِكْلِيلُ

Al-Qalb الْقَلْبُ

Al-Shaulah الشَّوْلَةُ

An-Na’yem النَّعَائِمُ

Al-Baldah الْبَلْدَةُ

Sa’ad adh-Dhabih سَعْدٌ الذَّابِحُ

Sa’ad Bula’ سَعْدُ بُلَعَ

Sa’ad as-Su’ood سَعْدُ السُّعُودِ

Sa’ad al-Akhbiyah سَعْدُ الْأَخْبِيَةِ

Al-Fara al-Moqaddam الْفَرْعُ الْمُقَدَّمُ

اس مضمون کے مصنف نے ان تمام بروج کے نام مسلم ماہرِفلکیات محمد بن جابر البتانی (244۔317 ہجری یا  858۔929 عیسوی)   کی کتاب زیج الصابئی اور شیخ الاسلام امام ابو محمد موفق الدین ابن قدامہ المقدسی الحنبلیؒ (متوفیٰ 640 ہجری) کی کتاب المغنی  سے اخذ کیے ہیں۔قدیم شام سے تعلق رکھنے والے محمد بن جابر البتانی  جسے اہل مغرب  الباٹینیس کے نام سے یاد کرتے ہیں، قرون اولیٰ کے بالکل  قریب کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں اور امام احمد بن حنبل ؒ کی وفات سے صرف تین سال بعد پیدا ہوئے۔انہوں نے نہ صرف ٹالمی (بطلیموس) کے مشاہدات کو مزید باریک بینی سے بیان کیا ، بلکہ ان میں مفید اضافے کیے اور جہاں مناسب سمجھااس پر تنقید بھی کی۔ ان کی تصانیف  کےتراجم کئی صدیوں تک یورپ کی درسگاہوں میں نصاب کا حصہ رہے ہیں۔ان کے بعد پیدا ہونے والےاہلِ اسلام میں بھی کوئی ماہرِ فلکیات ان سے سبقت نہیں لے جاسکا۔امام ابو محمد ابن قدامہ المقدسی الحنبلی ؒ شیخ الاسلام ہیں، جامع المعقول والمنقول ہیں۔ علمِ فلکیات میں بھی یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔آپ نے المغنی میں قبلے کے تعین کے ضمن میں منازل شمس و قمر یعنی دائرۃ البروج کی افادیت بیان کرتے ہوئے ان بروج کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کی ہیں۔ یاد رہے کہ مذکورہ بالا بروج نہ صرف مسلم ماہرین فلکیات استعمال کرتے ہیں بلکہ یونانی ماہرین فلکیات بھی ان منازل کا استعمال کرتے تھے۔ تاہم ٹالمی نے مزید سہولت پیدا کرنے کے لیے 28 منازل کی بجائے دائرۃ البروج کے 364 ستاروں کو 12 جھرمٹوں میں  تقسیم کیا تھا، جنہیں غلطی سے بروج کہہ دیا جاتا ہے، حال آن کہ یہ 364 ستاروں میں سے قریبی ستاروں کو فرضی  لکیروں کے ذریعے ملانے  سے جو اشکال وجود میں آتی ہیں ان کے نام ہیں۔ ستاروں کے بارہ جھرمٹوں کو ہی پامسٹری کی اصطلاح میں سٹارز کہا جاتا ہے، جو غلطی سے لوگ بروج بھی کہہ دیتے ہیں حال آن کہ قرآن میں ان فرضی اشکال کو بروج نہیں کہا گیا بلکہ ان میں شامل ستاروں کو بروج کہا گیا ہے۔بہر کیف ان بارہ بروج کےعربی اور انگریزی نام درج ذیل ہیں:

انگریزی نامعربی نام
Piscesحُوت
Ariesحمل
Taurusثور
Geminiجَوزا
Cancerسرطان
Leoاسد
Virgoسُنبلہ
Libraمیزان
Scorpiusعقرب
Sagittariusقوس
Capricornusجدی
Aquariusدَلو
Zodiac

 

ہم نے نہایت عرق ریزی اور محنتِ شاقہ کے بعدبروج کے بارے میں ضروری تفصیلات ایک پی ڈی ایف کی شکل میں جمع کردی ہیں، جس میں ان بروج کے متبادل انگلش نام ستاروں کےجھرمٹ، کرہ سماویہ میں ان کا وقوع اور زمین سے فاصلے بیان کیے گئے ہیں۔

دائرۃ البروج کی تفصیلات

سورج جس منزل پر ہوتا ہے وہ نصف کرہ  سماویہ دن کی روشنی میں ہونے کی وجہ سے اس نصف کرہ میں پائے جانے والے بروج نظر نہیں آتے جبکہ اس کے مخالف جانب والے نصف کرہ میں پائے جانے والے بروج رات کو نظر آتے ہیں۔ جوں جو ں سورج دائرۃ البروج میں سفر کرتا جاتا ہے، کچھ بروج  منظر سے غائب ہونے لگتے ہیں اور کچھ  نئےبروج نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں، اسی طریقہ پر سورج  سال بھر میں دائرۃ البروج میں گھوم جاتا ہے اورسارے بروج نظروں سے گزر جاتے ہیں۔

یہی سبب ہے کہ روزانہ ہم سارے بروج کا مشاہدہ نہیں کرسکتے بلکہ تمام بروج کا مشاہدہ کرنے کے لیے سورج کے سفر کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ سال بھر میں ان تمام بروج کا مشاہدہ کرنا پڑے گا۔

موسموں کا تغیر و تبدل

موسموں کے تغیر و تبدل کا براہ راست تعلق سورج اوراور اس کے راستے  یعنی  دائرۃ البروج  سے ہے۔ کرہ سماوی کا خط استوا زمینی خطِ استوا کی توسیع ہے۔دائرۃ البروج  کرہ سماوی کے خط استوا کے ساتھ 23.5 درجے کا زاویہ بناتا ہے۔ اس زاویے کو جدید ماہرین فلکیات نے زمین کےمحور کا جھکاؤ قرار دیا ہے، حال آن کہ یہ دائرۃ البروج کا جھکاؤ ہے۔ سورج جب دائرۃ البروج میں سفر کرتا ہے تو اس کا ارتفاع (آلٹی ٹیوڈ)اور  اس کی شعاعوں کا زاویہ  زمین کے مختلف مقامات کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے جس کی وجہ سےزمین کے مختلف حصوں میں مختلف موسم وجود میں آتے ہیں۔نیز سال کے مختلف اوقات  چونکہ سورج مختلف منزلوں میں ہوتا ہے اس لیے سال بھر میں یہ موسم بدلتے رہتے ہیں۔

seasons

موسمِ گرما

موسمِ گرما میں سورج دائرۃ البروج میں ایسی منازل میں سفر کررہا ہوتا ہے کہ جہاں سے سورج کا ارتفاع  زمین کے شمالی نصف کرے  (نارتھرن ہیمی سفیئر) میں سب سے زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کی شعاعوں کا زاویہ افق کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔عجیب اتفاق ہے کہ شمالی نصف کرہ میں سورج کا ارتفاع سب سے پہلے مکۃ المکرمہ میں 90 درجے کو پہنچتا ہے، یہ واقعہ آج کل ہر سال27 مئی کو ہوتا ہے۔مکۃ المکرمہ میں ارتفاع 90 درجے ہونے کا مطلب ہے شدید گرمی کا آغاز۔جبکہ مکہۃ المکرمہ ان چند مقامات میں سے ہے جہاں سورج سال میں دو دفعہ  90 درجے ارتفاع تک پہنچتا ہے۔ دوسری بار یہ واقعہ 5 اگست کو ہوتا ہے جو کہ گرمی کی  انتہائی شدت کے اختتام کی نشاندہی کرتا ہے۔ ضمناً بیان کرتا چلوں کہ 27 مئی اور 5 اگست ہی وہ دن ہیں جب دنیا بھر میں مساجد کے قبلے کا درست تعین کیا جاتا ہے، کیونکہ اس روز سورج عین کعبہ کے اوپر چمکتا ہے۔21 جون کو سورج کا ارتفاع شمالی نصف کرے میں خظ استوا سے لے کر  23.5  درجے تک کے اکثر مقامات پر دوپہر کے وقت  90 درجے  کے قریب ہوجاتا ہے۔ اس روز سورج کو اس انتہائی بلند مقام سے غروب ہونے کے لیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے، جس کی وجہ سے 21 جون کو سال کا سب سے لمبا دن (ڈے لائٹ آورز) ہوتا ہے اور سب سے چھوٹی رات ہوتی ہے۔ اس وقت سورج دائرۃ البروج کی الھنعۃ (الھنعا) نامی منزل میں پایا جاتا ہے۔نصف کرہ جنوبی میں تمام معاملات اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ کہ جب زمین کے نصف کرہ شمالی میں موسم گرما چل رہا ہوتا ہے انہی دنوں نصف کرہ جنوبی میں موسم سرما چل رہا ہوتا ہے۔

موسمِ سرما

موسمِ سرما میں سورج  کرہ سماویہ کے نصف کرہ جنوبی میں چمکتا ہے جس کہ وجہ سے زمین کے نصف کرہ شمالی میں سورج کا ارتفاع کم ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ دسمبرکے مہینے میں یہ نہایت کم ہوکر 21 دسمبر کو سب سے کم رہ جاتا ہے۔مثال کے طور پر مکۃ المکرمہ میں یہ ارتفاع موسم گرما کے مقابلے میں نصف یعنی 45 درجے رہ جاتا ہے۔اس انتہائی کم ارتفاع کے باعث سورج کے طلوع و غروب کا دورانیہ سب سے کم ہوجاتا ہے اور اس روز نصف کرہ شمالی میں سال کا سب سے چھوٹا دن ہوتا ہے۔اس وقت سورج  دائرۃ البروج کی النعائم(قوس) نامی منزل میں پایا جاتا ہے۔

موسم بہار

موسم گرما اور موسم سرما کی دو انتہاؤں کے بیچ دو معتدل موسم بھی آتے ہیں جن میں سے ایک موسم بہار ہے۔ موسمِ بہار اس وقت آتا  ہے جب سورج موسم سرما کے بعد سفر کرتا ہوا  کرہ سماویہ کے خط استوا پر پہنچتا ہے۔اس وقت سورج دائرۃ البروج کی الفرع المؤخر (بیٹا پائسیم)  نامی منزل میں موجود ہوتا ہے۔یہ واقعہ نصف کرہ شمالی میں 21 مارچ کو پیش آتا ہے۔ اس وقت  نصف کرہ شمالی کے اکثر حصوں میں دن رات کی طوالت برابر ہوتی ہے۔اگرچہ نصف کرہ جنوبی میں بھی اس وقت دن رات برابر ہوتے ہیں مگر موسم خزاں کا شروع ہوتا ہے۔

موسم خزاں

 موسم گرما کے بعد سورج سفر کرتا ہوا  دوبارہ خط استوا پر پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت یہ دائرۃ البروکی منزل العوّا    (زاویجاہ) میں داخل ہوتا ہے۔یہ بھی معتدل موسم ہے، گرمی کی شدت کم ہوجاتی ہے اور درختوں کے پتے جھڑنے لگتے ہیں۔موم خزاںسردیوں کی آمد کی خوشخبری لے کر آتا ہے۔گرمی سے گھبرائے ہوئے لوگ سکون کا سانس لیتے ہیں۔

اُصطُرلابْ یا ایسٹرولیب

اصطرلاب ایک قدیم فلکیاتی اور جہاز رانی کا آلہ تھا جو مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہ ایک انتہائی مفید اور ہمہ جہت آلہ تھا جو اسلامی دور، یونانی تہذیب، اور بعد میں یورپ میں فلکیاتی اور سمندری سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔ اگرچہ سادہ اصطرلاب یونانیوں کی ایجاد ہے مگر مسلماوں نے اسے خوب ترقی دی اور اسے ایک کثیرالمقاصد فلکیاتی آلہ بنادیا۔ محمد الفزاری کو اکثر پہلا مسلمان ماہر فلکیات سمجھا جاتا ہے جس نے عربی میں اصطرلاب پر باقاعدہ کتاب لکھی۔ مسلمانوں کے ایجاد کردہ اصطرلاب کو دنیا کی پہلی گھڑی یا سٹار واچ بھی کہا جاسکتا ہے۔ مشہور ماہر فلکیات عبدالرحمان الصوفی نے اصطرلاب کے ایک ہزار کے قریب فلکیاتی استعمالات بیان کیے ہیں۔

astrolab

اصطرلاب کے اہم مقاصد:

  1. فلکیاتی مشاہدات:
    • ستاروں اور سیاروں کی پوزیشن معلوم کرنا: اصطرلاب کو فلکیاتی اجسام، جیسے سورج، چاند، ستارے، اور سیاروں کی پوزیشن معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
    • ارتفاع یعنی زاویائی بلندی: اصطرلاب کے ذریعے آسمان میں موجود کسی فلکیاتی جسم کی بلندی یعنی ارتفاع (یعنی اس کا زاویہ افق سے) ناپی جا سکتی تھی۔
  2. وقت کا تعین:
    • دن اور رات کے وقت کی پیمائش: اصطرلاب کو سورج یا ستاروں کی پوزیشن کے ذریعے دن یا رات کے وقت کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس سے خاص نمازوں کا وقت معلوم کیا جاتا تھا۔
    • سورج کی بلندی سے وقت معلوم کرنا: دن میں اصطرلاب سورج کی بلندی سے وقت کا اندازہ کرنے میں بھی مدد کرتا تھا۔
  3. سمت شناسی (قبلہ کی سمت معلوم کرنا):
    • مسلمانوں کے لیے اصطرلاب کا ایک اہم مقصد قبلہ (مکہ کی سمت) معلوم کرنا تھا، تاکہ نماز کے لیے درست سمت کا تعین کیا جا سکے۔
  4. سمندری جہاز رانی:
    • سمندری راستوں کا تعین: اصطرلاب کو سمندری سفر میں جہاز رانوں نے استعمال کیا تاکہ ستاروں کی مدد سے سمندر میں اپنی مقامیت معلوم کی جا سکے، خصوصاً جہاز کے طول بلد (longitude) اور عرض بلد (latitude) کا اندازہ لگانے کے لیے۔
  5. فاصلے اور بلندی کی پیمائش:
    • زمینی فاصلوں کی پیمائش: اصطرلاب کو زمین پر مختلف بلندیوں اور فاصلوں کو ناپنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا، جیسے کہ پہاڑوں یا عمارتوں کی بلندی معلوم کرنا۔
  6. تعلیمی اور تحقیقی مقصد:
    • تعلیم: اصطرلاب کو تعلیم میں بھی استعمال کیا جاتا تھا تاکہ طلبہ کو فلکیات اور جیومیٹری کے اصول سکھائے جا سکیں۔
    • فلکیاتی تحقیق: ماہرین فلکیات نے اسے اجرامِ فلکی کی تحقیق اور رصدگاہوں میں استعمال کیا۔

موسموں کے ساتھ سورج اور دائرۃ البروج کا تذکرہ مغربی سائنس میں کیوں نہیں کیا جاتا؟ اس کا سبب یہ ہے کہ جب سورج اور دائرۃ البروج پر اس کے سفر کا ذکر کیا جاتا ہے تو عقل لا محالہ سورج کی زمین کے گرد گردش کے تصور کی طرف مائل ہوتی ہے، یہ وہ تصور ہے جس کی تائید قرآن حکیم سے ہوتی ہے اور اسی ضمن  میں مسلمانوں نے جو لازوال تحقیقات کی ہیں اور جو لافانی تصانیف اس موضوع پر چھوڑی ہیں، ان کا تذکرہ کرنا پڑتا ہے۔ جس سے یورپی جوانوں کے ذہن اسلام اور قرآن سے متاثر و مرعوب ہوجاتے ہیں۔

قرآن و اسلام کے اس تأثر سے بچنے کے لیے جدید فلکیات میں دائرۃ البروج کا موسموں اور وقت کے ساتھ تعلق بیان نہیں کیا جاتا۔ یوں بھی موجودہ مغربی نظام میں ہیلیوسینٹرک ماڈل کو ترجیح دی جاتی ہے  جس میں سورج کو زمین کے لحاظ سے ساکن اور زمین کو اس کے گرد گردش کرتا ہوا تسلیم کیا گیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے کہ دائرۃ البروج ایک قدیم اور فرسودہ تصور ہے نیز اس کا تعلق محض نجومیوں کے ساتھ ہے۔ سائنسی تحقیقات کے ساتھ اس کا براہ راست کوئی تعلق نہیں۔دوسرے لفظوں میں میڈیا امغربی جوانوں اور مسلم نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ تصور راسخ کرنے میں بھی کامیاب رہا ہے کہ مسلمانوں کے علوم فرسودہ اور بے کار ہیں، مغربی علوم کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ واضح رہے کہ یہ محض پروپیگنڈا ہے جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں تک حقائق آسان اور درست انداز میں پہنچائے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے