اپریل 23, 2026
رِزق کی تنگی کا علاج رسول اکرم ﷺ نے تنگیٔ رِزق کا علاج استغفار کو قرار دیا ہے۔

رِزق کی تنگی کا علاج

ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر جاندار کے رِزق کا ذمہ اپ نے سر لیا ہے کیوں کہ اصل خالق و رازق تو وہی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا

ترجمہ: اور زمین پر کوئی ایسا جاندار نہیں جس کارزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔

سورہ ہود: آیت 6

جب ہمارا ایمان ہے کہ ہر انسان کے رزق کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے تو پھر  معاشرے میں رزق کی تقسیم یکساں کیوں نہیں ہے؟ بات دراصل یہ ہے کہ جس رزق کا ذمہ اللہ نے اپنے سر لیا ہے  اس سے مراد وہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایسے قدرتی وسائل کی شکل میں پیدا کیا ہے جن تک ہر شخص کو رسائی حاصل ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ قدرتی وسائل تو ساری دنیا میں حکمران خاندانوں کے قبضے میں ہیں، ان تک عام آدمی کو کسے رسائی حاصل ہے۔ جس رزق تک رسائی ہر شخص کوحاصل ہے وہ زمین کی پیداوار ہے۔ خواہ وہ معدنیا ت کی شکل میں ہو یا پھل دار درختوں اور فصلوں کی شکل میں ہو۔ اتنا رزق ہر شخص حاصل کرسکتا ہے جو زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے۔ اسی رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ اگر آپ درویشانہ زندگی بسر کرنے پر آمادہ ہوجائیں تو آپ اللہ کا وعدہ پورا ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ہماری درویشانہ زندگی سے کیا مراد ہے؟ درویشانہ زندگی سے ہماری مراد وہی زندگی ہے جو نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق ایک راہ چلتے مسافر کی ہوتی ہے۔ بجلی، پٹرول اور گیس کی دریافت سے ذرا پہلے عام انسانوں کی زندگی درویشانہ زندگی کی ادنیٰ  سی مثال تھی۔ اب اس زمانے کا تصور کیجیے جب قرآن حکیم نازل ہوا۔اس مبارک زمانے میں رسول اکرم ﷺ، آپ کے اہلِ بیت علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ  علیہم اجمعین کی زندگی درویشانہ زندگی کی اعلیٰ ترین مثال تھی۔ کیا ہم درویشانہ زندگی گزارنے پر آمادہ ہیں؟ یقیناً درویشانہ زندگی گزارنا بھی کسی امتحان سے کم نہیں، مگر ایک لاکھ سے زیادہ انسان ہمیں  یہ درویشانہ زندگی نہایت اطمینان اور جذبۂ تشکر سے بھرپور  رہن سہن کے ساتھ دکھا چکے ہیں۔یہ بھی نہیں کہ انہوں نے یہ درویشانہ زندگی کسی مجبوری کے تحت اختیار کی ہو بلکہ مال و اسباب کی فراوانی کے باوجود انہوں نے نمودونمائش اور ظاہری تصنع کی زندگی پسند نہ فرمائی۔ جو مال  بھی آتا اللہ کی راہ میں خرچ کردیتے۔رسول اکرم ﷺ کی یہ کیفیت تھی کہ ایک بار ایک دینار آ پ ﷺ کے گھر پڑا رہ گیا جسے آپ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بھول گئے، آپ ﷺ رات بھر بے چین رہے اور صبح نماز فجر کے وقت ہی  وہ دینار صدقہ فرمادیا۔ آپﷺ کی  یہ کثرتِ سخاوت تموّل کی وجہ سے نہیں بلکہ جذبۂ ایثار کی وجہ سے تھی۔ حال آن کہ آپ ﷺ کے اپنے گھر کئی کئی روز چولہا نہ جلتا تھا کیوں کہ پکانے کے لیے کچھ دستیاب نہ ہوتا تھا۔ آپ  ﷺکے اہلِ بیت علیہم السلام خود کھجور اور پانی پر گزارہ کرلیتے تھےمگر سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹاتے تھے۔امام علی علیہ السلام کا گھر مسجد نبوی سے متصل تھا اور آپ کے گھر کا دروازہ مسجد میں کھلتا تھا۔  ایک بار امام علی بن ابی طالب علیہ السلام  اپنے گھر کے دروازے کے پاس مسجد میں نفل ادا فرمارہے تھے کہ ایک سائل نے مالی امداد کے لیے صدا لگائی۔ آپ نے رکوع کی حالت میں  ہی اپنا ہاتھ سائل کی طرف بڑھا دیا کہ اس میں سے ان کی چاندی کی انگوٹھی اتار لے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی سادگی، قناعت پسندی اور احساسِ جوابدہی کا یہ عالم تھا کہ روم و فارس کے خزانے مسجد نبوی کے فرش پر پڑے تھے ، جنہیں مسلمانوں میں تقسیم کرنے والے خلیفۂ وقت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اپنے لباس پر کئی پیوند لگے تھے۔جب آپ بیت المقدس کے فتح کے موقعہ پر اس شہر کی کنجیاں لینے پہنچے تو امیر لشکر سیدنا عبیدہ بن الجراح نے ڈرتے ڈرتے مشورہ دیا کہ پیوند لگا لباس اتار کر کوئی نیا لباس زیبِ تن فرمالیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹ پلادی اور فرمایا کہ ہمیں یہ شان و شوکت شاہی لباس کی وجہ سے نہیں ملی بلکہ نبی ﷺ کی پیاری سنتوں کی پیروی کی وجہ سے ملی ہے۔ یہاں تک کہ بیت المقدس کے راہب بھی بے ساختہ بول اٹھے کہ ہاں ہماری مقدس کتابوں میں بھی بیت المقدس فتح کرنے والے کی یہی نشانی بتائی گئی ہے  کہ اس کے لباس پر کئی پیوند لگے ہوں گے۔

 اگر آپ اس  درویشانہ زندگی سے زیادہ کے خواہشمند ہیں تو اس کے لیے آپ کو اپنی توانائیاں کھپانا پڑیں۔اسلام آپ کو درویشانہ زندگی نہ گزارنے کی اجازت  دیتا ہے، مگر تب آپ کو یہ اختیار نہیں رہتا کہ آپ اللہ کے وعدۂ رزق پر کوئی سوال اٹھائیں اور تنگیٔ رزق کا شکوہ کریں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ قرآن و سنت میں رزق کی تنگی کسے کہا گیا ہے؟

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا

ترجمہ: اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا تو بےشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے، کہے گا اے رب میرے مجھے تو نے کیوں اندھا اٹھایا میں تو انکھیارا(دیکھنے والا) تھا۔

سورۃ طٰہٰ: آیت 125

یہاں ذکرسے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے اور نماز بھی۔  اس ذکر کی معراج یہ ہے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کا دھیان نصیب ہوجائے اور اس کے خوف سے اس کی نافرمانی سے بچا رہے۔تنگ زندگانی سے مراد یہ ہے کہ سارے مال اسباب مہیا ہونے کے باوجود سکونِ قلب میسر نہ ہو، ناپسندیدہ مصائب  و آفات آپ کے گھر کا راستہ دیکھ لیں، شکر کی توفیق چھن جائے اور ناشکری کے کلمات زبان پر جاری ہوجائیں۔شکر کا مطلب محض زبان سے الحمدللہ کہنا ہی نہیں ہے، بلکہ مال و دولت کا شکر انہ یہ ہے کہ خالص اللہ کی رضا کے لیے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے، سوشل میڈیا پر اپنے چرچے کروانے کے لیے نہیں۔

 اس آیتِ مبارکہ کی رو سے رزق کی تنگی کا بنیادی سبب اللہ تعالیٰ کے ذکر سے منہ موڑنااور اس کی نافرمانی میں سرگرمی دکھانا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے تنگیٔ رزق کا علاج استغفار کو قرار دیا ہے۔ غور طلب بات ہے کہ نبی ﷺ نے رزق کی تنگی کا علاج  بتاتے ہوئے یہ نہیں فرمایا کہ اگر ایک دوکان میں گزارہ نہیں ہورہا تو ایک دوکان اور کھول لو، ایک جاب سے گھر کا خرچ نہیں چل رہا تو ایک پارٹ ٹائم جاب بھی کر لو۔ ایک فیکٹری سے تمہاری خواہشات پوری نہیں ہورہیں تو ایک فیکٹری اور بنالو۔ بلکہ نبی ﷺ نے استغفار کی کثرت کی ترغیب دی۔ استغفار کے بارے میں بھی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید اس سے مراد صبح شاوم استغفار کا وظیفہ کرنا ہے، جس نے یہ کرلیا اس کے گھر پر نوٹو ں کی برسات ہوگی۔استغفار سے مراد یہ ہے کہ بل گیٹس اور ایلون مسک جیسے قارون کو اپنا آئیڈیل بنانے کی  بجائے رسول ﷺ کو اپنا آئیڈیل بناؤ۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے باز آجاؤ، اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرو اور اللہ کے ذکر یعنی قرآن حکیم کوسمجھو اور اس پر عمل کرو۔اعمال صالحہ اختیار کرو، صالحین کی صحبت تلاش کرو، نماز اور صبر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرو۔اس صورت میں رزق کی تنگی دور ہوجائے گی۔ ایسا سکونِ قلب نصیب ہوگا کہ جس  کاکبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا۔قناعت و کفایت شعاری کی ایسی دولت ملے گی کہ جس کے سامنے قارون کے خزانے بھی کوئی وقعت نہیں رکھتے۔ تھوڑے رزق میں بھی اتنی برکت ہوگی کہ جو دنیا بھر کے خزانوں سے بھی میسر نہ ہوسکے۔حُسنِ نیت کے ساتھ پہلا قدم اٹھانا تمہارا کام ہے اور منزلوں کو تمہارے رستے میں بچھانا میرے رب کا کام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے