اپریل 22, 2026

کیا پاکستان ایک مسلم ریاست ہے؟

از قلم ساجد محمود انصاری

امام علی علیہ السلام کے زمانہ میں جب خوارج کا ظہور ہوا تو انہوں نے امام علی علیہ السلام کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دے دیا اور دلیل یہ دی کہ وہ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلے نہیں کرتے (معاذاللہ)۔ بھلا کوئی مؤمن سوچ بھی سکتا ہے کہ آیتِ تطہیر کا مصداق ٹھہرنے والے گھرانے  کا سربراہ  باب العلم ہی معاذاللہ دین اسلام سے پھر جائے؟ مگر افسوس کہ  خوارج کا طرزِ فکر ہمیشہ یہی رہا ہے۔ان کے نزدیک مسلم ریاست کا ہر وہ سربراہ دین اسلام سے خارج قرار پاتا ہے جو ان کی  مَن چاہی تشریحات  کے مطابق فیصلے نہیں کرتا۔

جس وقت دنیا بھر میں سیکولرازم کا طوطی بول رہا تھا، یہاں تک خلافتِ عثمانیہ کی بساط بھی لپیٹ دی گئی تھی، اس وقت بت پرست ہندو قوم کے تسلط سے آزاد ہونے کے لیے مسلمانانِ ہند نے نہ صرف ایک مسلم ریاست کے قیام کا ارادہ کیا بلکہ اس ارادے کو عملی شکل بھی دے دی اور لاکھوں انسانوں نے قربانیاں دے کر پاکستان حاصل کرلیا۔ پاکستان کے قیام کا مطالبہ کرنے والوں کے پیشِ نظر صرف ایک ہی نعرہ تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ الااللہ۔ اسی نعرے کی خاطر جوانوں نے اپنے سینے پر گولیاں کھائیں۔ اسی نعرے کے لیے سینکڑوں قافلے لٹے۔ بظاہر پاکستان تاجِ برطانیہ سے آزاد ہوا تھا مگر حقیقت میں پاکستان نے بت پرست  ہندوقوم سے آزادی حاصل کی تھی۔ یہی وہ نکتہ ہے جو مولانا ابوالکلام آزاد اور ان کے ہمنوا ؤں کو سمجھ نہیں آیا تھا۔پاکستان کی بنیاد یہی دو قومی نظریہ تھا جسے ہمارے دشمن ایک بار پھر تختۂ مشق بنائے ہوئے ہیں۔ہمارے اسلاف نے اس  باطل تصور کی جڑ کاٹی تھی کہ متحدو ہندوستان میں بسنے والے ایک قوم ہیں۔  مسلمانانِ پاکستان نے اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ ہندوستان میں ایک قوم نہیں بلکہ ہندو اور مسلم دو قومیں بستی تھیں۔یہی نظریہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں تنازعہ کا باعث تھا۔اسی تنازعہ کی بنیاد پر پاکستان قائم کیا گیا۔ خواہ مولانا ابوالکلام کے ہمنواؤں کو اچھا لگے یا برا، اگر وہ ہندوؤں کی غلامی پر راضی ہیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔  

پاکستان قائم ہوا تو  تاجِ برطانیہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق عبوری طور پر  1935 کا ایکٹ بطور قانون نافذ کرنا پڑا ، مگر پاکستانی رہنماؤں نے اپنا مسلم آئین 1956 میں نافذ کردیا جس نے ترقی کرکے 1973 کے آئین کی شکل اختیار کی۔ جس میں یہ طے کردیا گیا ہے کہ پاکستان ایک مسلم ریاست ہے جس میں کوئی قانون قرآن  وسنت کے منافی نہیں بنایا جاسکتا۔ فقہائے اسلام  نے مسلم ریاست (دارالاسلام) کے بارے میں گفتگو فرمائی ہے کہ کس خطے کو ہم دارالاسلام کہہ سکتے ہیں؟

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جہاں علی الاطلاق مسلمانوں کو امن حاصل ہو  تو ایسے مقام کو ’’دارالاسلام ‘‘کہا جائے گا،اور جہاں علی الاطلاق مسلمانوں کو خوف لاحق ہو اور کفار کو امن حاصل ہو اسے ’’دارالکفر ‘‘کہاجائے گا۔جب کہ صاحبین( امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن ) رحمہما اللہ کے نزدیک اصل مدار اسلامی احکام پر ہے، جہاں اسلامی شعائر اور احکامات کاغلبہ  ہو وہ ’’دارالاسلام‘‘ اور جہاں کفریہ  شعائروقوانین کا غلبہ ہو وہ ’’دارالکفر ‘‘کہلائے گا۔ (بدائع الصنائع)

معلوم ہوا کہ فقہا نے کسی خطے کو مسلم ریاست ماننے کے لیے یہ شرط نہیں لگائی کہ جب تک اس خطے میں تمام قوانین قرآن و سنت کے مطابق نہیں ہوجاتے اس وقت تک اسے مسلم ریاست تسلیم نہ کیا جائے، بلکہ تاریخ شاہد ہے  کہ نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے زمانہ میں مطلقاً  جب کوئی خطہ مفتوح ہوجاتا تو اسےفوری طور پر دارالاسلام یعنی مسلم ریاست کا حصہ مانا جاتا تھا خواہ ابھی اس میں اسلامی احکام نافذ ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں۔اصل شئے مسلمانوں کا تسلط اور غلبہ ہے، جب کسی خطے میں مسلمانوں کو تسلط اور غلبہ حاصل ہوجاتا ہے تو اسے مسلم ریاست کا حصہ سمجھا جاتا ہے نہ کہ دارالکفر۔

اب جس ریاست کا آئین تسلیم کرتا ہے کہ ہمارے زیرِتسلط خطے کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے،اس میں اقتدارِ اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اس میں قرآن و سنت کے منافی قانون نہیں بنائے جاسکتے تو اس کے مسلم ریاست  ہونے کے لیے اور کون سی شہادت درکار ہے؟ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس میں قوانین کو تدریجاً قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالا جارہا ہے، مگر الحمدللہ اسلامی شعائر کا غلبہ ہے اور چند گنے چنے قوانین کے سوا اکثر قوانین قرآن و سنت کے تابع ہیں۔  ریاست بحیثیت ریاست اسلام کے دائرہ میں داخل ہے اور اسے دارالکفر قرار دینا خوارج کا طرزِ عمل ہے۔ یاد رکھیں ہندوستان نکاح و طلاق کی آزادی کے باوجود دارالکفر ہے، جبکہ پاکستان سُودی معیشت کے باوجود دارالاسلام ہے، اسے دارالکفر کہنے والے خوارج ہیں جنہیں قرآن و سنت کے درست فہم سے دور کا بھی واسطہ نہیں، خواہ ان کی دستاریں ہمالیہ سے اونچی اور شلواریں گھٹنوں تک پہنچی ہوں۔

نبی ﷺ نے اپنی امت کو خبردار فرمادیا تھا کہ خوارج کا ظہور ہوگا اور تم لوگ اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے سامنے حقیر سمجھوگے، ان کی تلاوت تمہیں بہت زیادہ بھلی لگے گی، تمہیں وہ لوگ بظاہر بہت  زیادہ متقی لگیں گے مگر ایمان ان کے گلے سے نیچے نہیں اترےگا ۔ (بخاری و مسلم)

رسول اکرم ﷺ نے خوارج کو جہنم  کے کتے قرار دیا ہے۔(سنن ابن ماجہ، معجم الصغیر)

جانتے ہیں کہ  نبی ﷺ نےخوارج کےلیے ایسے الفاظ کیوں استعمال فرمائے ہیں؟ کیوں کہ خوارج نے ہمیشہ امت میں فساد برپا کیا۔ دارالاسلام کے امن کو تباہ کیا اور بدقسمتی سے یہ سب دین کے نام پر کیا۔کبھی اسے آزادی کا نام دیا، کبھی امر بالمعروف کا اور کبھی جہاد کا۔ یاد رکھیں اسلام میں نجی لشکر کا کوئی تصور نہیں۔ جہاد فی سبیل اللہ بنیادی طور پر ریاست کی ذمہ داری ہے جس میں افراد ریاست کے حکم پر اپنا حصہ ڈالتے ہیں، ناں کہ ہر اسلحہ اٹھانے والا بندہ مجاہد کہلانے لگ جائے۔ پاکستان کے اصل مجاہدین افواجِ پاکستان ہیں، جو ان کی کمان میں اسلحہ اٹھائے گا وہ مجاہد ہوگا اور جو ان کے خلاف اسلحہ اٹھائے گا وہ خارجی ہوگا۔

اب رہا یہ سوال کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایک مسلم ریاست سے ایک متقی ریاست کیسے بنایا جاسکتا ہے تو اس کے لیے سیاسی میدان عمل کھلا ہے۔آپ ایسے حکمرانوں کا انتخاب کیجیے جو  خود بھی دیندار ہوں اور پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کا منشور بھی رکھتے ہوں۔  لیکن خدارا ریاستِ پاکستان کو دارالکفر اور طاغوت قرار دے کر دہشت گردوں کے آلہ کار مت بنیں۔ جتنے فیصد آپ خود مسلم ہیں کم از کم اتنے فیصد ریاستِ پاکستان کو بھی مسلم تسلیم کرلیں۔ریاست کی قیادت میں کردار کی کمزوری ہوسکتی ہے، جرأت کا فقدان ہوسکتا ہے، مگر اس کے انتخاب یا تبدیلی کے لیے سیاسی طریقہ کار اختیار کریں، خوارج کے طرزِ عمل سے گریز کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے